پی ٹی آئی کی احتساب کمیٹی کے رکن قاضی انور نے سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے خلاف الزامات پر مبنی اپنی 7 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی، جس میں سپیکر کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیتے ہوئے کلین چٹ دے دی گئی ہے
پورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سپیکر بابر سلیم سواتی کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، جبکہ الزامات کا اصل محور سینیٹر اعظم خان سواتی اور اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیا گیا ہے۔
قاضی انور نے رپورٹ میں بتایا کہ اعظم سواتی نے اٹک جیل سے رہائی کے بعد ایک عوامی جلسے میں بابر سلیم سواتی پر سنگین الزامات عائد کیے، جن کا نوٹس لیتے ہوئے سپیکر نے احتساب کمیٹی کو ایک خفیہ خط لکھ کر الزامات کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
تحقیقاتی عمل کے دوران کمیٹی نے اعظم سواتی سے شواہد طلب کیے، جس کے جواب میں انہوں نے ایک کتابچہ فراہم کیا۔ قاضی انور کے مطابق ان شواہد کی جانچ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ الزامات میں کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں۔
رپورٹ میں قاضی انور نے لکھا ہے کہ جیل سے رہائی کے بعد اعظم سواتی کے موقف میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی، خصوصاً اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ان کا رویہ نرم پڑ گیا، جب کہ پہلے وہ سخت مؤقف رکھتے تھے۔
قاضی انور نے اپنی رپورٹ میں ان وجوہات کا بھی ذکر کیا ہے جن کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ، سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کے خلاف ہوئی۔ ان کے مطابق 26 نومبر کو سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مظاہرین کی ہلاکت کے بعد بابر سلیم سواتی نے اسمبلی میں سخت تقریر کی اور معاملے پر بحث کا آغاز کیا، جو ایک غیر معمولی اقدام تھا۔
اسی تقریر کے بعد ایم پی ایز کی جانب سے متفقہ طور پر مذمتی قرارداد منظور کی گئی، جس کے بعد مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ منفی مہم بابر سلیم کے خلاف شروع ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کرپشن کیس میں قید ہیں، چھٹیاں منانے نہیں گئے ،عطا تارڑ کا بیان
اس کے علاوہ کاٹلنگ میں ہونے والے ڈرون حملے، جس میں خواتین اور بچے جاں بحق ہوئے، کے حوالے سے متضاد بیانات نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ رپورٹ میں لکھا گیا کہ اس واقعے کی مذمت کرنے والے رہنماؤں میں بابر سلیم سواتی بھی شامل تھے، جس سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کی کشیدگی مزید بڑھی۔
رپورٹ کے اختتام پر قاضی انور نے کہ مجھے یقین ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان اس بات پر قائل ہوں گے کہ میں نے اپنی ذمہ داری غیر جانبداری سے پوری کی ہے۔





