اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ پرانا ہے، پانی روکا گیا تو جنگی اقدام تصور ہو گا: بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد خان

اسلام آباد: اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ کوئی نیا نہیں بلکہ تاریخی ہے، ماضی میں کارگل جنگ کے دوران بھی اسرائیل نے بھارت کو اسلحہ فراہم کر کے اس کی مدد کی تھی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں شریک دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد خان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر پر قبضے کا ماڈل بھی اسرائیلی طرز پر بنایا گیا ہے، اور آج بھی اسرائیل تکنیکی طور پر بھارت کو سپورٹ کر رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پانی پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، اور اگر بھارت نے پانی روکنے کی کوشش کی تو یہ اقدام جنگ کے مترادف تصور کیا جائے گا۔ پاکستان اس مسئلے کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اُٹھائے گا۔

دوسری جانب معروف ماہر بین الاقوامی قانون احمر بلال صوفی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک مقبوضہ علاقہ تسلیم شدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی قانونی فورمز پر نہ صرف بھارت بلکہ مقبوضہ کشمیر میں موجود غیر ملکی فورسز کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے، کیونکہ کسی بھی بیرونی ملک کی سپورٹ یا مداخلت، بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

احمر بلال صوفی نے مزید کہا کہ اسرائیل اور بھارت میں ایک نمایاں مماثلت یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنی جغرافیائی حدود کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ بھارت، “اکھنڈ بھارت” کے خواب کی تکمیل کے لیے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے اور مودی سرکار سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری کی کوشش کر رہی ہے، جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت ہوش کے ناخن لے، ورنہ انجام بھگتنا پڑے گا، سینیٹر افنان اللہ کا سخت ردعمل

ماہرین نے متفقہ طور پر کہا کہ پاکستان کو سفارتی، قانونی اور دفاعی ہر سطح پر تیار رہنا ہوگا، کیونکہ خطے میں بدلتے حالات سنگین نتائج کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

Scroll to Top