اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے قومی یکجہتی کے ذریعے بھارتی پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، تاہم پاکستان نے بروقت اس پر تشویش کا اظہار کیا اور بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو ایک قوم بن کر اپنے وطن کا دفاع کرنا ہوگا۔ انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس (APC) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ وقت قومی اتحاد کے پیغام کو فروغ دینے کا ہے، نہ کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک شخصیت پر سیاست مرکوز کرنا ملک کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے بات چیت پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی نمائندہ قیادت سے مؤثر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، اور اس کے لیے لچکدار رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو بانی سے بات نہ کرنے کے بجائے مؤثر مذاکراتی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو افغان مہاجرین پر ایک مشترکہ پالیسی بنانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد جاری، بھارت کا فالس فلیگ آپریشن بے نقاب ،ماہر قانون حافظ احسان احمد
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی مختلف کیٹیگریز بنا کر ریاستی نظام پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کو مل کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے اس بیان میں واضح طور پر قومی یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔





