ٹرمپ نے ایران کو دھوکہ دیا، اب مذاکرات بے معنی ہو گئے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

خطے میں امن کی نئی امید، ایران کی پاک بھارت کشیدگی پر ثالثی کی پیشکش

پاک بھارت کشیدگی پر ایران کی ثالثی کی پیشکش، تہران نے دونوں ممالک کو “برادر پڑوسی” قرار دیدیا

تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ اور علاقائی کشیدگی میں اضافے کے تناظر میں ایران نے مثبت سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کو “برادر پڑوسی” سمجھتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ صدیوں پرانی تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی وابستگی حاصل ہے، اور تہران اس نازک صورتحال میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مفاہمت کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

ایران کی یہ پیشکش ایک ایسے وقت سامنے آئی جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں پیش آنیوالے چھبیس افراد ہلاک ہوئے حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کردیا ، جس میں مبینہ طورپر بھارتی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے ٹھوس دلائل اور ثبوت پیش کیے ، جس سے بھارت کی پوزیشن کمزور پڑگئی ہے ۔

دوسری جانب، بھارت نے حسبِ روایت جنگی بیانات کا سہارا لیتے ہوئے یکطرفہ اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا، واہگہ بارڈر بند کرنا، سفارتی عملے میں کمی، اور پاکستانی شہریوں کے ویزے روکنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

جواباً پاکستان نے بھی سخت اقدامات کیے ہیں۔ اسلام آباد نے نہ صرف واہگہ بارڈر بند کر دیا بلکہ سارک ویزوں پر بھارتی شہریوں کے لیے پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں، شملہ معاہدے کو معطل کیا گیا اور بھارتی ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود بند کر دی گئی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت جھوٹے الزامات کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ “ہم امن چاہتے ہیں لیکن اگر بھارت نے جنگ مسلط کی تو تاریخ اسے یاد رکھے گی۔”

اسی کشیدہ ماحول میں ایک بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس (BSF) اہلکار کی پاکستانی حدود میں داخلے کی خبر بھی سامنے آئی، جسے پاکستانی رینجرز نے انسانی بنیادوں پر حراست میں لیا اور تفتیش کا آغاز کیا ہے۔ بھارت اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بھی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

ایران کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اور پاکستان کی طرف سے سفارتی دروازے کھلے رکھنے کی پالیسی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے، جبکہ بھارت کے جارحانہ رویے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top