انصاف کی دہلیز پر عمران خان کی دستک،چیف جسٹس پاکستان اور اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط

انصاف کی دہلیز پر عمران خان کی دستک،چیف جسٹس پاکستان اور اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط

بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اعلیٰ عدلیہ کو نوصفحات پر مشتمل خط، مبینہ سیاسی انتقام پر ایکشن لینے کی اپیل

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی و سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جسٹس سرفراز ڈوگر کے نام ایک مفصل خط میں اپنے خلاف ہونے والی مبینہ سیاسی انتقامی کارروائیوں اور آئینی خلاف ورزیوں پر نوٹس لینے کی استدعا کی ہے۔

یہ خط، جس کا عنوان “آئین کی حالت اور پاکستان میں قانون کا نفاذ” ہے، جمعہ کے روز پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری اور قانونی امور کے سربراہ سلمان اکرم راجہ کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان کے چیمبر میں جمع کرایا گیا۔ اس موقع پر عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خانم سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی ان کے ہمراہ موجود تھی۔

نو صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں عمران خان نے دو سو سے زائد فوجداری مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے ان مقدمات کو ایک منظم سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سنائی جانے والی سزائے قید کو بھی عدالتی نظام کے سیاسی استعمال کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

خط میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری سمیت دیگر کارکنان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ عمران خان نے عدلیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

سابق وزیر اعظم نے مؤقف اپنایا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کے بجائے طاقت کا قانون نافذ ہے، اور عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔

پی ٹی آئی کی قیادت نے توقع ظاہر کی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اس خط کو سنجیدگی سے لے گی اور قانون و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے گی۔

Scroll to Top