پانی کے بعد سائبر محاذ، بھارت کی اوچھی چالیں بے نقاب، پاکستان کا زبردست دفاع

پانی کے بعد سائبر محاذ، بھارت کی اوچھی چالیں بے نقاب، پاکستان کا زبردست دفاع

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی، شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ بھارتی ہیکرز نے حالیہ دنوں میں مختلف وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق پانی کے مسئلے پر دباؤ نہ ڈال سکا تو بھارت نے اب سائبر دہشتگردی کا راستہ اختیار کر لیا، پاکستانی وزارتوں اور وفاقی اداروں پر سائبر حملوں کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے، تاہم پاکستان نے ان حملوں کو کامیابی سے ناکام بناتے ہوئے ایک بار پھر اپنی دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے،وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی، شزہ فاطمہ خواجہ نے تصدیق کی ہے کہ بھارتی ہیکرز نے حالیہ دنوں میں مختلف وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن تمام حملے نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی) کے جدید سائبر سکیورٹی نظام کے باعث ناکام بنا دیے گئے۔

وزیر آئی ٹی نے واضح کیا کہ ’’ان حملوں سے نہ تو کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہوا اور نہ ہی ٹیلی کام سروسز پر کوئی اثر پڑا۔ تمام اہم سرکاری ویب سائٹس این ٹی سی پر ہوسٹ کی گئی ہیں جہاں جدید اور محفوظ سکیورٹی انفراسٹرکچر موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قومی اور صوبائی سطح پر کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمز (سی ای ار ٹی) نہ صرف فعال ہیں بلکہ شہریوں کو سائبر سکیورٹی سے متعلق مسلسل آگاہی بھی فراہم کر رہی ہیں۔ ان ٹیمز کی جانب سے باقاعدگی سے ایڈوائزریاں جاری کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

مزید برآں، نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن سکیورٹی بورڈ (این ٹی آئی ایس بی) بھی مکمل طور پر متحرک ہے اور تمام سائبر خطرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ شزہ فاطمہ نے کہا کہ پاکستان سائبر سکیورٹی کے لحاظ سے اب دنیا کے ٹاپ ٹیئر ممالک میں شامل ہو چکا ہے، اور ہمارا شمار امریکہ، برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں وزیر آئی ٹی نے پاکستانی نوجوانوں کے ردعمل کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ’’ہماری نوجوان نسل نے memes اور طنزیہ انداز میں صورتحال کو جس طرح بیان کیا، وہ قابلِ داد ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم پاکستانی نہ گھبرانے والے ہیں اور نہ پیچھے ہٹنے والے۔‘‘
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے اور پہلگام واقعے کی بھی کھل کر مذمت کی گئی ہے، لیکن اگر دشمن نے سائبر یا کسی بھی دوسرے محاذ پر چھیڑ چھاڑ کی، تو اس کا جواب بھرپور انداز میں دیا جائے گا۔

Scroll to Top