بھارتی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں واقع معروف کراچی بیکری کو ایک بار پھر انتہاپسندوں کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا، جب بی جے پی سے وابستہ شدت پسندوں نے بیکری پر حملہ کر کے اسے نقصان پہنچایا اور “کراچی” نام ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق حملہ پاک بھارت کشیدگی کے پس منظر میں کیا گیا، جہاں حملہ آوروں نے بیکری کے باہر شدید نعرے بازی کی اور املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ “کراچی” جیسا پاکستانی نام بھارت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ واقعہ اس نوعیت کا پہلا نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی پلوامہ حملے کے بعد آندھرا پردیش میں کراچی بیکری کی ایک اور شاخ کے باہر احتجاج کیا گیا تھا، جس میں انتہاپسندوں نے بیکری کو نشانہ بناتے ہوئے شدید دباؤ ڈالا تھا کہ وہ اپنا نام تبدیل کرے۔
بیکری کے مالکان نے واضح کیا ہے کہ ان کا پاکستان یا کسی سیاسی ایجنڈے سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق “کراچی بیکری” کا نام ان کے آبا و اجداد کی تقسیمِ ہند کے وقت کی ہجرت اور تاریخی ورثے کی علامت ہے، جو 1950 کی دہائی سے بھارتی شہریوں کو معیاری مٹھائیاں اور بیکری آئٹمز فراہم کر رہی ہے۔
بیکری انتظامیہ نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قوم یا مذہب کے خلاف نہیں اور صرف اپنے کاروبار کی بقا اور روایت کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
حملے کے بعد سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابھی تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔





