حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا آرتھوپیڈک یونٹ، ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن کی زندہ مثال

پشاور(سلمان یوسفزئی) حیات آباد میڈیکل کمپلیکس( ایچ ایم سی) میں کروڑوں روپے کی لاگت سے 10 سال کے دوران تیار کیا گیا آرتھوپیڈک اسپائن اینڈ ٹراما یونٹ ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن کی زندہ مثال بن گیا۔

افتتاح کے صرف ایک دن بعد ہی بارش کے دوران آپریشن تھیٹر کی چھت سے پانی ٹپکنے لگا۔ عملہ آپریشن تھیٹر کے فرش پر بالٹیاں رکھ کر پانی روکنے کی کوشش کرتا رہا جبکہ مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اسپتال کا عملہ عارضی اقدامات کے ذریعے آپریشن کے دوران پانی کو روکنے میں مصروف ہے۔

اس شرمناک صورتحال نے نہ صرف اسپتال انتظامیہ کی نااہلی کو بے نقاب کیا بلکہ تعمیراتی کام کی نگرانی پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ دس سال تک التوا کا شکار رہا اور حال ہی میں مکمل ہونے کے بعد عوام کے لیے کھولا گیا لیکن صرف ایک دن میں اس کی اصل حقیقت سامنے آ گئی۔

جب اس حوالے سے ایچ ایم سی انتظامیہ سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے ایک وزیر کے دورے کی تصاویر اور سرکاری پریس ریلیز ارسال کر دی۔ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ وزیر نے اسپتال کا دورہ تعمیراتی نقائص اور تاخیر پر تحفظات کے پیش نظر کیا۔

دوسری جانب عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ صحت جیسے حساس شعبے میں اس قسم کی مجرمانہ غفلت ناقابل برداشت ہے۔

یہ بھی پڑھیں :غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف ہوں، خیبرپختونخوا سمبلی کے قانونی مشیر مستعفی

مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں فنڈز کے ضیاع اور ناقص تعمیرات کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

Scroll to Top