خیبر پختونخوا کابینہ کا 33واں اجلاس وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈا پور کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، مختلف محکموں کے سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کابینہ کے فیصلوں پر میڈیا کو بریفنگ دی۔
اجلاس میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے کلائمیٹ ایکشن بورڈ بل 2025 کی منظوری دی گئی جو ایک خودمختار ادارہ ہوگا اور ماحولیاتی پالیسی سازی، نگرانی، تحقیق اور فنڈز اکٹھا کرنے کے فرائض انجام دے گا۔ اس کے تحت کلائمیٹ ایکشن فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔
کابینہ نے خیبر پختونخوا پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن ایکٹ 2013 میں ترامیم کی منظوری دی جن کے تحت ڈیجیٹل، کیبل اور سوشل میڈیا اشتہارات کو قانونی دائرہ کار میں لایا گیا ہے، جبکہ اخبارات کی ڈیکلریشن اب دس سال بعد خاندان سے باہر منتقل کی جا سکے گی۔
خیبر پختونخوا ٹورازم ایکٹ 2019 میں ترامیم کی منظوری بھی دی گئی جن کے تحت سیاحت پولیس کے کانسٹیبلز کی ملازمت میں توسیع کا اختیار بورڈ آف ڈائریکٹرز کو دے دیا گیا ہے۔
اجلاس میں محکمہ صحت کے کنٹریکٹ اپوائنٹمنٹ رولز 2022 میں ترامیم کی منظوری دی گئی جس کے بعد ڈینٹل سرجنز، ٹیکنیشنز اور نرسز کی کنٹریکٹ بنیاد پر بھرتی ممکن ہو سکے گی۔
کابینہ نے وٹر وہیکل رولز 1969 کے رول 57-B(I) سے اسٹیج کیریج (مسافر گاڑیوں) کو استثنیٰ کی منظوری کے ساتھ گاڑیوں کی فٹنس اور ایگزاسٹ ٹیسٹنگ اسکیم پر فوری عملدرآمد کی سفارش بھی منظور کی گئی۔
کابینہ نے سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
ایک مشترکہ قرارداد میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، پاک افغان پالیسی کی ناکامی اور صوبے کو افغان امور پر بااختیار بنانے کی سفارش کی گئی، جبکہ ایک اور قرارداد میںپہلگام واقعے کی مذمت کی گئی اور سندھ طاس معاہدے کو نقصان پہنچا نے پر بھارت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی خطیر رقوم کی منظوری دی گئی۔ جانی خیل پولیس اسٹیشن کی لاگت 100 ملین سے بڑھا کر 140.43 ملین روپے، اوڈیگرام پل کے قریب 750 میٹر سڑک کی تعمیر کے لیے 190 ملین روپے، ٹاکا ٹاک تا ہیا سیرائی پل کی لاگت 500 ملین سے بڑھا کر 1020.401 ملین روپے کر دی گئی۔
ڈی ایچ کیو اسپتال وانا کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے 153.950 ملین روپے جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت پشاور و بنوں کے لیے دو گاڑیوں کی خریداری کی بھی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے گندم کی خریداری مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ موجودہ ذخائر صوبے کی ضروریات کے لیے کافی ہیں اور وفاقی پالیسی کے اعلان تک مزید خریداری نہیں کی جائے گی۔
زمین اور ریکارڈ سے متعلق اہم پیش رفت میں بورڈ آف ریونیو اور سروے آف پاکستان کے درمیان کیڈاسٹرل میپنگ کے پائلٹ منصوبے کے ایم او یو کی منظوری دی گئی۔ بتایا گیا کہ صوبے کے 9 اضلاع میں زمین کا ریکارڈ مکمل طور پر جبکہ 10 اضلاع میں 90 فیصد کمپیوٹرائزڈ ہو چکا ہے اور اب کیڈاسٹرل میپنگ کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا۔
کابینہ نے ریسکیو 1122 اسٹیشن کی تعمیر کے لیے 2 کنال 12 مرلہ زمین کی منتقلی کی منظوری دی گئی تھی۔ 113ویں انٹرنیشنل لیبر کانفرنس جنیوا میں شرکت کے لیے وزیر اور سیکرٹری لیبر کے ناموں کی منظوری دی گئی۔
کئی فلاحی گرانٹس کی منظوری بھی دی جن میں 9 شہداء کے لواحقین کے لیے 5،5 ملین روپے کے خصوصی پیکج، محسود ویلفیئر ایسوسی ایشن کے لیے 20 ملین، فرنٹیئر فاؤنڈیشن کے لیے 10 ملین، اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے لیے 50 ملین روپے کی گرانٹ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں :بلوچستان،فتنہ الہندوستان کا ایک دفعہ پھر عام بلوچوں پر حملہ، اے ڈی سی آر شہید
اجلاس کے اختتام پر خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی اور ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو اور صوبائی محتسب کی سال 2023 اور 2024 کی رپورٹس کی منظوری بھی دی گئی۔





