پشاور: سینئر صحافی محمد فہیم نے انکشاف کیا ہے کہ پشاور میں سیف سٹی منصوبہ گزشتہ 14 سال سے فائلوں میں گھوم رہا ہے لیکن عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
پختون ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے محمد فہیم نے بتایا کہ یہ منصوبہ پہلی بار 2010ء میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے دور حکومت میں تجویز کیا گیا تھا، تاہم لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں اس منصوبے کا آغاز ہو چکا ہے، مگر پشاور اب تک اس سے محروم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) گزشتہ 12 برس سے خیبرپختونخوا میں برسر اقتدار ہے، اور اگر ان کا دعویٰ ہے کہ پشاور نے انہیں مینڈیٹ دیا، تو اب وہ وقت آ گیا ہے کہ پشاور کے لیے بھی حقیقی کام دکھایا جائے۔
محمد فہیم نے سوال اٹھایا کہ اب وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کریں گے، بلکہ یہ بتانا ہوگا کہ کیا کیا؟ٹریفک اور نکاسی آب: پشاور کے دیرینہ مسائل محمد فہیم کے مطابق پشاور میں سب سے بڑا مسئلہ ناقص ٹریفک نظام اور نکاسی آب کا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹریفک چالان صرف اُس وقت کیے جاتے ہیں جب ٹریفک اہلکاروں کو ’ٹارگٹ‘ دیا جاتا ہے، اور وہ مخصوص جگہوں پر ہی موجود ہوتے ہیں۔ شہر میں ٹریفک سگنلز کا شدید فقدان ہے اور 80 ہزار رکشوں میں سے 60 ہزار غیرقانونی ہیں، جو ٹریفک کے بگاڑ کا ایک بڑا سبب ہیں۔
شہری منصوبہ بندی میں مقامی نمائندگی کا فقدانسینئر صحافی کا کہنا تھا کہ پشاور کی منصوبہ بندی دیگر اضلاع سے آنے والے افراد کر رہے ہیں، جنہیں مقامی مسائل کا ادراک ہی نہیں۔ شہر میں نکاسی آب کی صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ معمولی بارش کے بعد سڑکیں پانی سے بھر جاتی ہیں۔
مختلف اداروں جیسے کہ پی ڈی اے، ڈبلیو ایس ایس پی، میٹروپولیٹن اور چھ ٹی ایم ایز کے درمیان رابطے کا فقدان انتظامی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔حکومتی توجہ دیگر اضلاع کی جانبمحمد فہیم نے نشاندہی کی کہ ہر حکومت کے دور میں صوبائی دارالحکومت پشاور کو نظرانداز کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور صدر کا تاریخی مٹکا فالودہ، فوارہ چوک کی پہچان بن گیا
پرویز خٹک نے نوشہرہ، محمود خان نے سوات، حیدر ہوتی نے مردان، اکرم خان درانی نے بنوں، اور موجودہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی توجہ ڈیرہ اسماعیل خان پر مرکوز ہے، جبکہ پشاور مسلسل حکومتی ترجیحات سے باہر رہا ہے۔





