ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں سرکاری اسکولوں کی تعمیر اور مرمت کے دوران ناقص اور غیر معیاری مٹیریلز کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے، جس سے بچوں کی زندگیوں کو سنگین
خطرات لاحق ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسکولوں کی تعمیر میں غیر منظور شدہ تین نمبر اینٹیں، کم مقدار میں سیمنٹ اور سریا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اسکولوں کی عمارات کمزور اور غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔
گورنمنٹ پرائمری اسکول امن تالاب اکاخیل سمیت کئی اسکولوں کی عمارتوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور زمین میں نشست کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں، جو کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔
مقامی آبادی اور مشران نے کہا ہے کہ ٹھیکیداروں اور بعض منتخب نمائندوں کی ملی بھگت سے یہ بدعنوانی سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا رہی ہے اور بچوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
عوام نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری اور دیگر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایک غیر جانبدار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ تمام زیر تعمیر اور حال ہی میں مکمل اسکولوں، سڑکوں اور دیگر عمارتوں کا معیار چیک کیا جا سکے اور بدعنوان عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : ضلع خیبر میں سکول ٹیچر کے مبینہ تشدد سے طالبعلم جاں بحق، ملزم گرفتار
باڑہ کے عوام نے کہا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں اس قسم کی بدعنوانی ناقابل قبول ہے اور اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو بڑے حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔





