قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما عمر ایوب خان تھانہ نیو ٹاؤن میں درج 24 نومبر کے جلاؤ گھیراؤ کیس میں عدالتی حکم پر شامل تفتیش ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے حکم کے تحت عمر ایوب نے اپنے وکیل کے توسط سے تفتیشی افسر راشد کے سامنے تحریری بیان جمع کروا دیا۔ بیان میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایک سیاسی اور جمہوری نظریات رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمیشہ آئین و قانون کی پاسداری پر یقین رکھتے ہیں۔
عمر ایوب نے بیان میں کہا کہ ملک بھر میں ان کے خلاف 90 سے زائد مقدمات محض سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں اور وہ ہر مقدمے میں عدالتوں کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ انہوں نے جلاؤ گھیراؤ کے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پرامن احتجاج کے حامی ہیں اور کسی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہیں رہے۔
ان کے وکیل نے عدالت کے احاطے میں ان کا تحریری بیان تفتیشی افسر کے حوالے کیا، جسے باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ عمر ایوب پر 24 نومبر 2023 کو مبینہ جلاؤ گھیراؤ کے واقعے میں ملوث ہونے کا الزام ہے، جس کی ایف آئی آر تھانہ نیو ٹاؤن میں درج کی گئی تھی۔ تاہم، انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے قانونی عمل کا سامنا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔





