خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے نئے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ مالی اور ترقیاتی ترجیحات طے کی ہیں، اور بجٹ میں کوئی نیا قرض نہیں لیا جا رہا۔
پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزمل اسلم نے بتایا کہ اگر وفاق کی کارکردگی بہتر ہو تو صوبے بھی مؤثر انداز میں خدمات فراہم کر سکتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ سال خیبرپختونخوا کو وفاقی حکومت کی ناقص ٹیکس وصولیوں کے باعث 90 ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز سندھ اور پنجاب سے بھی کم رکھے گئے، جبکہ این ایف سی اور اے ڈی پی کی مکمل رقم بھی فراہم نہیں کی گئی۔
مزمل اسلم نے انکشاف کیا کہ صوبے نے مالی سال 2024-25 میں 93 ارب روپے کی وصولی کا ہدف حاصل کرنے کے قریب ہے۔ صرف قبائلی اضلاع میں 20 ارب روپے ترقیاتی (AIP) اور 47 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں صوبے نے اپنی جیب سے خرچ کیے۔
انہوں نے بتایا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) 153 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے، جس سے اب تک 419 ارب روپے کی اسکیمیں مکمل ہو چکی ہیں۔ نئے مالی سال میں 810 منصوبے شامل کیے گئے ہیں جن کی مجموعی لاگت 500 ارب روپے سے زائد ہے۔
مشیر خزانہ نے واضح کیا کہ نئے مالی سال میں کوئی نیا قرض نہیں لیا جا رہا، تاہم اگر کوئی میگا پراجیکٹ شروع کرنا ہو تو قرض لینے پر غور ہو سکتا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کے لیے 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے یومیہ 6 کروڑ روپے منافع حاصل ہو رہا ہے، اور آئندہ برس اس مد میں 17 سے 18 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔
مزمل اسلم نے مزید کہا کہ وفاق پہلی بار اگلے مالی سال میں صوبے کو پن بجلی کی مد میں مکمل 70 ارب روپے کی ادائیگی کرے گا، جبکہ اس وقت ماہانہ 3 ارب روپے جاری کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری ملازمین سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے ملازمین کو تقریباً 30 اقسام کے الاؤنسز ملتے ہیں، جن میں سیکرٹریٹ سے باہر کے ملازمین کے لیے 30 فیصد ڈیسپیرٹی الاؤنس بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں پنجاب پولیس کے مساوی کی گئی ہیں اور ان میں مزید 10 فیصد اضافہ بھی کیا گیا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت مالی نظم و ضبط، پسماندہ علاقوں کی ترقی اور عوامی فلاح کو اپنی اولین ترجیح بنائے رکھے گی۔





