تعلیم، صحت اور انفرااسٹرکچر سے محروم ضم اضلاع، حکومتی عدم توجہی پر نثار باز برہم

خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن نثار باز نے کہا ہے کہ سات ضم اضلاع میں آج بھی نہ کوئی یونیورسٹی ہے، نہ میڈیکل کالج اور نہ ہی انجینئرنگ ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ ان اضلاع کو سڑکوں، صنعتی زونز اور دیگر بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے نثار باز کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ضم اضلاع کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں ضم اضلاع کے لیے 68 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن وفاق نے صرف 22 ارب روپے جاری کیے، جبکہ صوبائی حکومت نے محض 7 ارب روپے خرچ کیے۔

نثار باز نے مزید کہا کہ صوبے پر اس وقت 750 ارب روپے کا قرضہ ہے، جس کی واپسی صوبے کے ذمے ہے، ایسے میں بجٹ کو سرپلس قرار دینا محض اعداد و شمار کی بازیگری ہے۔ اگر واقعی بجٹ سرپلس ہوتا تو جامعات کو گرانٹس فراہم کی جاتیں۔

یہ بھی پڑھیں : کوہستان کرپشن میں بیوروکریٹس ملوث، پی ٹی آئی کا کوئی کردار نہیں،ایم این اے انور تاج

انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ 2018 کی 25ویں آئینی ترمیم کے وقت وفاق نے وعدہ کیا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ سے ضم اضلاع پر دس سال تک سالانہ 3 فیصد حصہ خرچ کیا جائے گا، اور اس مقصد کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے تھے، لیکن آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

Scroll to Top