کوہستان کرپشن میں بیوروکریٹس ملوث، پی ٹی آئی کا کوئی کردار نہیں،ایم این اے انور تاج

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکنِ قومی اسمبلی ملک انور تاج نے کہا ہے کہ کوہستان کرپشن اسکینڈل میں پی ٹی آئی کے کسی بھی سیاسی فرد کا کوئی کردار نہیں، اس معاملے میں بیوروکریٹس اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفس ملوث ہے، جو کہ وفاق کے ماتحت ادارہ ہے، نہ کہ صوبے کا۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ملک انور تاج نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر تھی۔ رمضان المبارک کے دوران عوام کو بلا تعطل بجلی فراہم کی گئی اور اس کے لیے حکومت کی جانب سے سبسڈی دی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ رجیم چینج کے بعد سے ملک پر 30 ہزار ارب روپے کا مزید قرض چڑھ چکا ہے، جو ماہانہ تقریباً 900 ارب روپے بنتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا 6300 میگاواٹ پن بجلی پیدا کرتا ہے، جبکہ صوبے کو صرف 1100 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، حالانکہ اس کی اپنی ضرورت 2600 میگاواٹ ہے۔

عمران خان کی رہائی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پارٹی لیڈرشپ نے ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک کی کامیابی کا دار و مدار پنجاب کی شمولیت پر ہوگا، جہاں مریم نواز کی حکومت نے خوف کی فضا قائم کر رکھی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا سے عوام ایک دن میں سڑکوں پر آ سکتے ہیں۔

ملک انور تاج نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر جن اراکینِ اسمبلی پر شک ظاہر کیا گیا، ان کے خلاف نہ صرف شوکاز نوٹس جاری کیے گئے بلکہ تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی قائم کی گئی، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں  : خیبرپختونخوا اینٹی کرپشن کی شاندار کارکردگی، مالی سال 2024-25 میں ریکارڈ ریکوری

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان چاہتے تو شام تک رہا ہو سکتے تھے، لیکن وہ اصولوں کا سودا نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے محروم کیا گیا، رہنماؤں کی پریس کانفرنسز کرائی گئیں، عمران خان کی اہلیہ اور قریبی ساتھیوں کو جیل بھیجا گیا، لیکن پارٹی اب بھی اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔

9 مئی کے بعد کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو رہنما اور کارکن آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کے حوصلے فولاد جیسے ہیں۔ ان پر وزارتوں، فنڈز اور سینیٹ انتخابات میں کروڑوں کی پیشکشیں ہوئیں، لیکن انہوں نے تمام تر دباؤ کے باوجود پارٹی اور قیادت کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

Scroll to Top