عدالت نے شیخ حسینہ واجد کو طلب کرلیا

بنگلہ دیش کی جنگی جرائم کی عدالت نے مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے وطن واپس آنے کا حکم دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پراسیکیوشن نے شیخ حسینہ واجد پر پانچ الزامات عائد کیے ہیں، جن میں اعانت، اکسانا، شراکت، سہولت کاری، سازش اور اجتماعی قتل کو روکنے میں ناکامی شامل ہیں، یہ الزامات بنگلہ دیشی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

چیف پراسیکیوٹر محمد تاج‌الاسلام نے پیر کو بتایا کہ عدالت نے پراسیکیوشن ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد از جلد ایک نوٹس جاری کریں جس کے تحت ان افراد کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا جائے۔

اگر شیخ حسینہ واپس نہ آئیں تو ان کے بغیر ہی مقدمے کی کارروائی 24 جون سے دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

پراسیکیوشن کا مؤقف ہے کہ شیخ حسینہ نے وزارت داخلہ اور پولیس کے ذریعے احکامات جاری کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کو مظاہروں کو کچلنے کی ہدایت دی تھی، شیخ حسینہ دو دیگر عہدیداروں کے ساتھ اس مقدمے میں شریک ملزم ہیں۔

ان میں سے ایک، سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال، جو اسی نوعیت کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، بھی مفرور ہیں۔دوسرے شریک ملزم، سابق پولیس سربراہ چوہدری عبداللہ المامون، حراست میں ہیں اور پیر کے روز عدالت میں پیش ہوئے۔

شیخ حسینہ کی حکومت کے سینئر عہدیداروں کے خلاف مقدمہ ان کئی سیاسی جماعتوں کا کلیدی مطالبہ ہے جو اس وقت برسراقتدار آنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :عوامی نیشنل پارٹی ہر ظلم اور جارحیت کے خلاف ہے، میاں افتخار حسین

عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپریل 2026 میں انتخابات کرائے گی، تاہم بعض جماعتیں اس سے پہلے الیکشن کرانے پر زور دے رہی ہیں۔

Scroll to Top