نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو جی 7 اجلاس کے بعد دہلی واپسی پر معمول سے 3 گھنٹے زیادہ طویل سفر کرنا پڑا، جس کی وجہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی بنی۔
ذرائع کے مطابق نریندر مودی جی 7 اجلاس کے بعد اپنے تین ملکی دورے کے آخری مرحلے میں کروشیا کے دارالحکومت ذگریب پہنچے، جہاں انہوں نے 9 گھنٹے قیام کے بعد رات گئے دہلی کے لیے روانگی اختیار کی۔
عام حالات میں بھارتی وزیراعظم کا طیارہ عراق، ایران اور پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے مختصر راستے سے نئی دہلی پہنچتا ہے، تاہم ان دنوں بھارت کے لیے پاکستانی فضائی حدود بند ہے جبکہ ایران اور عراق کی فضائی حدود بھی ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث متاثر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : چین کی قیامِ امن کی کوششیں: شی جن پنگ کی چار نکاتی تجویز پیش
نتیجتاً مودی کا طیارہ متبادل اور طویل راستہ اختیار کرتے ہوئے یونان، مصر، سوڈان اور ایتھوپیا سے ہوتا ہوا بحیرہ عرب کے راستے پہلے ممبئی اور پھر گجرات کے ذریعے دہلی پہنچا۔ اس غیرمعمولی روٹ کی وجہ سے مودی کی پرواز میں تقریباً 3 گھنٹے کا اضافہ ہوگیا۔





