پشاور: خیبرپختونخوا کی خواتین ارکان نے صوبائی بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے خواتین کے ساتھ مکمل ناانصافی قرار دیا ہے۔
خواتین کی تعلیم، بااختیار بنانے اور ترقیاتی پروگراموں کے لیے بجٹ میں کوئی خاطر خواہ رقم مختص نہ کیے جانے پر ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جے یو آئی-ف کے رکن اسمبلی عاصمہ عالم نے کہا کہ بجٹ میں خواتین کی ضروریات کو نظر انداز کیا گیا ہے اور خواتین ممبران سے مشاورت تک نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں لڑکیوں کے لیے کوئی اسکول یا کالج اور ترقی کے لیے کوئی پروگرام شامل نہیں کیا گیا۔ عاصمہ عالم نے مزید کہا کہ گزشتہ سال انہیں کوئی ترقیاتی فنڈز نہیں ملے اور اس سال بھی انہیں نظر انداز کیا گیا ہے۔
ایک اور نامعلوم رکن اسمبلی نے حکومت پر بجٹ سے پہلے جھوٹے وعدے کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاقی فنڈز پر منحصر ہے مگر خواتین کے لیے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا۔
پی پی پی کی رکن نیلوفر بابر نے بجٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسمبلی میں مسئلہ اٹھایا لیکن کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ انہوں نے اسپیکر کے دعوے کو بھی مسترد کیا کہ بجٹ میں خواتین کے لیے مختص فنڈز موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : افغان ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹرز کو سالانہ ملٹی پل انٹری ویزہ جاری کرنا خوش آئند ہے، آفتاب احمد خان شیرپاو
مسلم لیگ (ن) کی صوبیہ شاہ نے خواتین قانون سازوں سے مشاورت نہ کیے جانے پر ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بجٹ میں خواتین کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن کے ساتھ قانونی مسائل کی وجہ سے مخصوص نشستیں حاصل نہیں ہو سکیں، جس سے خواتین کی نمائندگی اسمبلی میں کم ہو گئی ہے۔





