خیبرپختونخوا حکومت کو 157 ارب روپے سرپلس ہدف حاصل کرنے میں شدید مشکلات

خیبرپختونخوا حکومت کو 157 ارب روپے سرپلس ہدف حاصل کرنے میں شدید مشکلات

خیبرپختونخوا حکومت کے لئے آئندہ مالی سال کے لئے 157 ارب روپے کا سرپلس حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے

پشاور(محمداعجا زآفریدی)بجٹ دستاویر کے مطابق آئندہ مالی سال 2025-26 کے میں خیبرپختونخوا نے کل محصولات 2 ہزار 119ارب روپے لگایا گیا ہے جن میں 157 ارب روپے سرپلس دکھائے ہیں، تاہم صوبائی بجٹ میں این ایف سی ایوارڈ کی مد میں سابق فاٹا کے لئے 42 ارب روپے دکھا ئے گئے ہیں ۔

جس کے حوالے سے مشیر برائے خزانہ کا موقف ہے کہ قبائلی اضلاع کا این ایف سی میں 3 فیصد حصہ دینے کا وعدہ کیا گیاتھا تاہم ابھی تک قبائلی اضلاع کے لئے این ایف سی کی مدمیں کوئی فنڈز نہیں ملے ہیں ، اس لئے ہر سال قبائلی اضلاع کے 3 فیصد حصہ کا ذکر بجٹ میں کیا جاتاہے لیکن یہ پیسے ابھی تک صوبے کو نہیں ملے ہیں۔

رواں مالی سال مالی ضم اضلاع کے لئے این ایف سی کی 3 فیصد کی مدمیں 39 ارب روپے رکھے گئے تھے جن میںپنجاب کے حصے سے 23.8 ارب روپے ، سندھ کے حصے سے 11.30 ارب روپے اوربلوچستان کے شیئرز سے 4.20 ارب روپے ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا تاہم اس رقم میں صوبائی حکومت کو ایک پائی بھی موصول نہیں ہوئی ہے ۔

اس طرح آئندہ مالی سال 2025-26 ئ کے لئے بھی 157 ارب روپے سرپلس رکھے گئے ہیں تاہم قبائلی اضلاع کے 42 ارب روپے نہ ملنے کی وجہ سے سرپلس کا رقم کم ہوکر115 ارب روپے رہ جاتاہے ، اس کے علاوہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بیرونی امداد، قرضوں اور گرانٹ ان ایڈ کی مد میں 177.19 ارب روپے رکھے گئے ہیں،جن میں بندوبستی اضلاع کے لئے 171.38 ارب روپے جبکہ قبائلی اضلاع کے لئے 5.36 ارب روپے ملنے کا امکان ظاہر کیا گیاہے اگر رواں مالی سال کا جائزہ لیا جائے تو رواں مالی سال کے دوران صوبائی حکومت نے فارن اسسٹنٹس کی مد میں 130.6 ارب روپے ملنےکا امکان ظاہر کیا گیاتھا تاہم ابھی تک 112.14 ارب روپے صوبائی حکومت کومل چکے ہیں۔

جبکہ اس مد میں 17 ارب روپے زائد حکومت کو نہیں ملے ، اس لئے گمان کیا جارہاہے کہ آئندہ مالی سال 2025-26 کے لئے رکھے گئے 177 ارب روپے میں سے بھی مقررہ ہدف سے کم ملنے کا خدشہ ہے ، اس طرح آئندہ مالی سال کے لئے صوبائی حکومت کو 157 ارب روپے کا سرپلس دینا ممکن نہیں ہوگا اور اگر صوبائی حکومت 157 ارب روپے سرپلس کا ہدف حاصل کرنا چاہے تو صوبائی حکومت کے پاس ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگانے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوگا۔

Scroll to Top