دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز جلد ہی دبئی کے برج الخلیفہ سے چھن سکتا ہے، کیونکہ سعودی عرب نے ایک ایسی فلک بوس عمارت کی منصوبہ بندی کر لی ہے جو نہ صرف برج الخلیفہ بلکہ زیرِ تعمیر جدہ ٹاور سے بھی دوگنا زیادہ بلند ہوگی۔
امریکی جریدے نیوزویک رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں’’رائز ٹاور‘‘ کے نام سے ایک بلند و بالا عمارت کی تیاری جاری ہے، جس کی ممکنہ بلندی 6562 فٹ (تقریباً 2 کلومیٹر) ہوگی۔ اس طرح یہ عمارت نہ صرف برج الخلیفہ (2717 فٹ) بلکہ جدہ ٹاور (3281 فٹ) سے بھی کہیں بلند ہوگی۔
ویژن 2030 کا حصہ
یہ عظیم الشان منصوبہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کا حصہ ہے، جس کے تحت ریاض میں نارتھ پول کے نام سے ایک جدید شہری مرکز قائم کیا جائے گا، جہاں یہ ٹاور تعمیر ہوگا۔
ابتدائی بولیاں طلب
رپورٹ کے مطابق، سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) نے نارتھ پول ڈسٹرکٹ بشمول رائز ٹاور کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں سے بولیاں طلب کر لی ہیں۔ اس ٹاور کا ڈیزائن معروف برطانوی آرکیٹیکچرل فرم فوسٹر اینڈ پارٹنرز نے تیار کیا ہے۔
لاگت اور مدت
ابھی اس منصوبے کی تعمیراتی لاگت کا حتمی اندازہ تو نہیں لگایا گیا، تاہم ابتدائی تخمینے کے مطابق 5 ارب امریکی ڈالرز تک کے اخراجات متوقع ہیں، جو مستقبل میں بڑھ بھی سکتے ہیں۔ تاحال کسی کنسٹرکشن کمپنی کا انتخاب نہیں کیا گیا، تاہم چونکہ یہ منصوبہ ویژن 2030 میں شامل ہے، اس لیے رواں دہائی کے اختتام تک اس کی تکمیل کی کوشش کی جائے گی۔
برج الخلیفہ کا ریکارڈ خطرے میں
واضح رہے کہ برج الخلیفہ 2010 سے دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز رکھتا ہے، مگر سعودی عرب اب نہ صرف اس ریکارڈ کو توڑنے بلکہ عالمی تعمیراتی تاریخ کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔





