دوسرے ملکوں کو جہنم بنانےکی دھمکیاں دینے والا امن انعام کا مستحق ہو سکتا ہے؟ مفتی تقی

دوسرے ملکوں کو جہنم بنانےکی دھمکیاں دینے والا امن انعام کا مستحق ہو سکتا ہے؟ مفتی تقی

معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے ایران پر امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ملک دوسروں کو جہنم بنانے کی دھمکیاں دیتا ہے، وہ نوبیل امن انعام جیسے اعزاز کا مستحق نہیں ہو سکتا۔

مفتی تقی عثمانی نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے امریکی اقدام کو ’’نہ صرف انتہائی قابل مذمت بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔

امن انعام کی نامزدگی پر سوالات
اپنے بیان میں مفتی تقی عثمانی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:
’’دوسرے ملکوں کو جہنم بنانے کی دھمکیاں دینے والا شخص کیا امن کا انعام حاصل کرنے کا مستحق ہوسکتا ہے؟‘‘

یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پاکستان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ سفارش نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دستخط سے ناروے کی نوبیل کمیٹی کو روانہ کی گئی ہے۔

عالم اسلام میں تشویش کی لہر
امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حالیہ حملے نے عالمی سطح پر، بالخصوص مسلم دنیا میں شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی جیسے مؤقر عالم دین کا کھل کر اظہارِ خیال اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکی پالیسیوں پر مذہبی اور فکری حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

سیاسی حلقے بھی تقسیم
ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے کا فیصلہ پاکستانی سیاست میں بھی تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جس شخصیت کے دور میں مسلم دنیا میں تنازعات اور بمباری میں اضافہ ہوا، اسے امن کے پیامبر کے طور پر پیش کرنا تضاد سے بھرپور اقدام ہے

Scroll to Top