پشاور کے 30 ٹیوب ویلز کی بجلی بحال کر دی گئی ہے اور متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
ٹیوب ویلز کی بندش کے باعث گھروں، مساجد اور ہسپتالوں میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی تھی اور شہریوں کو گرمی کے شدید موسم میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی) کے ترجمان کے مطابق پیسکو نے بجلی منقطع کرنے کے چند گھنٹوں بعد ہی ڈبلیو ایس ایس پی کی درخواست پر تمام متاثرہ ٹیوب ویلز کی بجلی بحال کر دی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ شہر میں مجموعی طور پر 544 ٹیوب ویلز فعال ہیں جن کے ماہانہ 10 سے 12 کروڑ روپے کے بل باقاعدگی سے اور بروقت ادا کیے جا رہے ہیں۔
ڈبلیو ایس ایس پی کے مطابق پیسکو کی جانب سے ٹیوب ویلز پر کسی قسم کے موجودہ بقایاجات نہیں ہیں تاہم 2018 میں پیسکو نے 4 کروڑ 80 لاکھ روپے کے پرانے بقایاجات کا دعویٰ کیا تھا جس پر ڈبلیو ایس ایس پی نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ تاحال عدالت میں زیر سماعت ہے لہٰذا زیر التوا مقدمے کی بنیاد پر بجلی منقطع کرنا ناانصافی اور شہریوں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فوج کیخلاف بیان بازی تحریک انصاف کی پالیسی نہیں ہے ،بیرسٹر سیف
ترجمان نے پیسکو سے اپیل کی ہے کہ جب تک عدالت کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں آتا تب تک شہریوں کو پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم نہ کیا جائے کیونکہ تمام جاری بل وقت پر ادا کیے جا رہے ہیں۔





