وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور خطے میں حالیہ کشیدہ صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے گزشتہ آٹھ روز کے دوران ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کی شدید مذمت کی جو اسرائیل کی جانب سے جاری بلا اشتعال اور بلا جواز جارحیت کے بعد کیے گئے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ یہ حملے خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
وزیراعظم نے ایران کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ایرانی عوام اور حکومت سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا
وزیراعظم شہبازشریف نے نے اسرائیلی جارحیت کے دوران زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور بے گناہ شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی امریکی حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایک مذمتی بیان جاری کیا، ترجمان کے مطابق امریکی حملے درحقیقت اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کا حصہ ہیں جن سے نہ صرف خطے میں امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر امریکی حملہ، خطے کیلئے خطرناک موڑ، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی شدید مذمت
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملوں کے نتیجے میں خطے میں تشدد اور عدم استحکام میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جو تمام فریقین کے لیے تشویشناک ہے۔





