قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اجلاس ، اپوزیشن لیڈر اور وزیر مملکت خزانہ میں سخت جملوں کا تبادلہ

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اجلاس ، اپوزیشن لیڈر اور وزیر مملکت خزانہ میں سخت جملوں کا تبادلہ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے حالیہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر اور وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں دونوں نے ایک دوسرے پر معیشت خراب کرنے کے الزامات عائد کیے۔

اجلاس کی صدارت قائمقام چیئرمین جواد حنیف نے کی، جس میں فنانس بل 2025-26 میں شامل ٹیکس اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، چیئرمین ایف بی آر نے اجلاس میں کہا کہ ای کامرس کے لیے آمدنی کی شرح 50 لاکھ روپے سے زائد مقرر کی گئی ہے، جبکہ ممبر ایف بی آر نے بتایا کہ سینیٹ کمیٹی نے ای کامرس پر ٹیکس کے خلاف سفارشات دی ہیں۔

اجلاس کے دوران بجٹ پر اعداد و شمار مانگنے پر عمر ایوب اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ وزیر مملکت نے اپوزیشن پر معیشت تباہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے معیشت کا بیڑہ غرق کیا ہے، آپ آر ٹی ایس والے ہیں‘‘۔ جواب میں عمر ایوب نے کہا کہ ’’آپ فارم 47 والے ہیں‘‘۔ اس دوران چیئرمین کمیٹی نوید قمر اجلاس میں شامل ہو کر صدارت سنبھال لی۔

عمر ایوب نے عالمی حالات کے سنگین ہونے اور خاص طور پر امریکہ کے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے خطے پر منفی اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے باعث ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کا بحران پیدا ہو سکتا ہے، اور بجٹ پر عالمی حالات کے اثرات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

جواد حنیف نے کہا کہ عالمی حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں ہیں، اور ممکن ہے کہ سپلیمنٹری بجٹ لانا پڑے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، حکومت حالات کا جائزہ لے کر مناسب فیصلہ کرے گی۔ اس پر بلال اظہر نے کہا کہ اوگرا نے بیان دیا ہے کہ ملک میں تیل کے ذخائر مکمل ہیں اور وزارت پٹرولیم صورتحال کو مانیٹر کر رہی ہے۔

اجلاس میں مالی امور، ٹیکس پالیسی اور بجٹ کے حوالے سے متعدد اہم نکات پر غور و خوض کیا گیا۔

Scroll to Top