قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں ہاتھا پائی

قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں ہاتھا پائی

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیر کے روز اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے احتجاج شروع کر دیا۔ اجلاس میں تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد بات دھکم پیل اور ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔

ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے رکن اقبال آفریدی نے سخت تنقید کی، جس پر پیپلز پارٹی کے ارکان برہم ہو گئے اور اسپیکر کے ڈائس کی طرف بڑھ گئے۔ اس دوران ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔

نجی ٹی وی چینل سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے دعویٰ کیا کہ وزیر خزانہ کو مائیک دینے پر پی ٹی آئی کے دو سے تین ارکان نے ان پر حملے کی کوشش کی، جسے انہوں نے روکنے کی کوشش کی تو ہاتھا پائی ہوگئی۔

حنیف عباسی کا کہنا تھا:
’’ذاتی طور پر ہاتھا پائی کے حق میں نہیں ہوں، لیکن اگر کوئی آپ کے گریبان تک ہاتھ لے آئے تو دفاع کرنا حق بنتا ہے۔ وزیر خزانہ کے بعد بلاول بھٹو نے بات کرنی تھی، یہ طے شدہ تھا، لیکن پی ٹی آئی نے ایوان کا ماحول خراب کیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست کا یہی طریقہ ہے کہ وہ ہنگامہ کھڑا کرتے ہیں تاکہ اہم تقاریر کو روکا جا سکے۔

ادھر اسپیکر نے جب اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو بولنے کی اجازت دی تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ارکان نے بھی بھرپور احتجاج کیا اور نعرے بازی شروع کر دی۔ ایوان میں کچھ دیر تک احتجاج در احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے احتجاج کو بھارتی فنڈنگ سے جوڑ دیا، جس پر ایوان کا ماحول مزید تلخ ہو گیا۔

Scroll to Top