پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے قیام کی مہلت کے لیے دی گئی 30 جون کی ڈیڈ لائن اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 5 لاکھ 62 ہزار 659 افغان شہری پاکستان سے اپنے وطن افغانستان واپس جا چکے ہیں۔ ان میں سے 40 ہزار 221 مہاجرین اے سی سی کارڈ ہولڈر تھے۔
ذرائع کے مطابق بارڈر پوائنٹس پر مہاجرین کی سہولت کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں رجسٹریشن، سفری معاونت، طبی سہولیات اور دستاویزی عمل کو تیز کرنے جیسے انتظامات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ واپسی کا عمل باقاعدہ نگرانی کے تحت جاری ہے۔
حکومت پاکستان نے ملک میں غیر قانونی اور عارضی قیام پذیر افغان باشندوں کی وطن واپسی کے لیے ایک مرحلہ وار منصوبہ مرتب کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں اُن افغان مہاجرین کو رضاکارانہ واپسی کا موقع دیا گیا ہے جن کے پاس پی او آر اور اے سی سی کارڈز موجود ہیں۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ 30 جون کے بعد قیام کی مدت ختم ہو جائے گی، اور یکم جولائی سے ایسے افغان شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو حکومت کی مقرر کردہ مدت کے بعد بھی غیر قانونی طور پر ملک میں موجود ہوں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے گزشتہ برس اعلان کیا تھا کہ وہ مرحلہ وار پالیسی کے تحت تمام غیر قانونی مہاجرین کی واپسی یقینی بنائے گا، تاکہ ملکی سکیورٹی، معیشت اور انتظامی ڈھانچے پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔





