سوات میں حالیہ فلیش فلڈ کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال پر سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین محمود خان نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو واقعے کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔
اپنے بیان میں محمود خان نے کہا کہ سیلاب کے دوران درجنوں افراد پانی میں پھنس کر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے اور یہ منظر نہ صرف دل دہلا دینے والا تھا بلکہ صوبائی حکومت اور مقامی نمائندوں کی سنگین غفلت اور نااہلی کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دورِ حکومت میں ریسکیو آپریشنز کے لیے فراہم کی گئی بھاری مشینری کو موجودہ صوبائی حکومت نے اسلام آباد میں سیاسی مقاصد کے لیے منتقل کیا جسے بعد ازاں پنجاب اور وفاقی پولیس نے ضبط کر لیا۔ ان کے مطابق اگر یہ مشینری بروقت سوات میں موجود ہوتی تو شاید کئی قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
محمود خان نے سوات کے منتخب عوامی نمائندوں پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا سوال یہ ہے کہ سوات کے نمائندے کہاں ہیں؟ کیا ان کی ذمہ داری صرف انتخابات تک محدود تھی؟ آج وہ عوامی مشکلات میں خاموش کیوں ہیں؟”
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سوات واقعے پر رپورٹ طلب کر لی
سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے مزید کہا کہ اب صرف ہمدردی کے بیانات کافی نہیں بلکہ جواب دہی کا وقت ہے، عوام کو حق ہے کہ وہ سوال کریں کہ ان کی جان و مال کی حفاظت کے لیے جنہیں منتخب کیا گیا وہ اس آزمائش کی گھڑی میں کہاں غائب ہیں؟





