سوات سانحہ،گورنر خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے استعفے کا مطالبہ

سوات سانحہ،گورنر خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے استعفے کا مطالبہ

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو واقعے کا براہِ راست ذمے دار قرار دے دیا ہے اور ان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گورنر کے پی نے اپنے بیان میں کہا کہ دریائے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر پوری قوم سوگوار ہے، اور ان کے الفاظ میں ’’دل خون کے آنسو روتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کی صورتِ حال میں وزیراعلیٰ نے کوئی بروقت اقدام نہیں کیا، جو ان کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سانحہ سوات پر صرف اسسٹنٹ کمشنر یا ریسکیو اہلکاروں کو قصوروار ٹھہرانا زیادتی ہے، اصل ذمہ داری وزیراعلیٰ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ محکمہ سیاحت براہِ راست ان کے ماتحت ہے۔’’دریائے سوات میں چارپائیاں بچھانے والا ہوٹل ہو یا حفاظتی اقدامات کی کمی، سب کچھ سیاحتی انتظامیہ کی غفلت کا نتیجہ ہے، جس کا کنٹرول وزیراعلیٰ کے پاس ہے،‘‘

انہوں نے صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ حکومت جنوبی اضلاع کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی ہے، جبکہ کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیے جا رہے ہیں۔‘‘

گورنر نے صوبائی حکومت کی بے حسی اور ناقص انتظامی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس المناک واقعے پر محض رسمی بیانات کافی نہیں، وزیراعلیٰ کو اخلاقی اور سیاسی طور پر ذمے داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

سوات میں پیش آنے والے اس سانحے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جس پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ گورنر کے بیان نے اس معاملے کو مزید سیاسی رنگ دے دیا ہے، اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ وزیراعلیٰ گنڈاپور اس مطالبے کا کیا جواب دیتے ہیں۔

Scroll to Top