سپریم کورٹ فیصلے کیخلاف اسمبلی اور عوامی سطح پر احتجاج کرینگے ، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی فیصلے کو آئینی ناانصافی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اسمبلی کے اندر اور عوامی سطح پر اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرے گی۔

نجی ٹی وی چینل(جیوزنیوز) سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے گہری مایوسی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، ’’یہ فیصلہ آئین کی غلط تشریح پر مبنی ہے، جو ہمارے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کا حق تھیں لیکن انہیں مسترد شدہ جماعتوں میں بانٹ دیا گیا۔‘‘

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے خلاف اعلیٰ عدلیہ میں اب بھی ’’قاضی فائز عیسیٰ کا سایہ‘‘ موجود ہے۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ نہ صرف سیاسی طور پر جانبدار ہے بلکہ مستقبل میں عدالتی تاریخ میں ایک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا کہ کیسے ایک بڑی سیاسی جماعت کو اس کے آئینی حق سے محروم کیا گیا۔

بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا، ’’یہ فیصلہ ثابت کرے گا کہ 26ویں آئینی ترمیم کس طرح ایک دن ختم ہو گی اور نئی سپریم کورٹ اس فیصلے کو انصاف کے منافی قرار دے گی۔‘‘

پی ٹی آئی کے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی نے تمام آئینی اور قانونی فورمز پر حق کے لیے جنگ لڑی، لیکن مخصوص نشستوں کو ’’مالِ غنیمت‘‘ کی طرح مسترد شدہ جماعتوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ماضی میں اسی عدالت نے پی ٹی آئی کا آئینی استحقاق تسلیم کیا تھا، اور آج اس سے انکار ایک افسوسناک تضاد ہے۔

پی ٹی آئی نے فیصلے کو پاکستان کی آئینی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ فیصلہ عوام کے ووٹ، نمائندگی اور اعتماد پر ڈاکا ہے۔ آج پاکستان ایک بے آئین اور بے انصاف ریاست کی تصویر بن چکا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا، جس کے تحت پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ کالعدم قرار پایا۔

Scroll to Top