ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈی آئی خان میں 41 کروڑ روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈی آئی خان میں 41 کروڑ روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

خیبرپختونخوا کے ایم ٹی آئی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان میں مالی اور انتظامی بے قاعدگیوں کا سنگین انکشاف ہوا ہے۔

ہسپتال کی انٹرنل آڈٹ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 41 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن، غفلت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

پختون ڈیجیٹل کو موصول ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتون سٹور انچارج نے تقریباً 13 کروڑ 54 لاکھ 99 ہزار 824 روپے مالیت کی ادویات چوری کر کے غیر قانونی طور پر فروخت کیں۔

اسی طرح ایک ٹھیکیدار کی جانب سے فراہم کردہ 4 کروڑ 31 لاکھ 72 ہزار 300 روپے کی ادویات بھی غائب پائی گئیں۔

رپورٹ میں مفتی محمود میموریل ہسپتال سے بھی 2 کروڑ 50 لاکھ 30 ہزار 20 روپے مالیت کی ادویات کی غیر قانونی فروخت کا ذکر موجود ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر فرخ جمیل کو ہسپتال ڈائریکٹر کے عہدے پر غیر قانونی طور پر تعینات کیا گیا جس کے بعد انہوں نے 2 لاکھ 81 ہزار روپے کی تنخواہیں اور مراعات حاصل کیں۔

انہوں نے بغیر منظوری کے 3 کروڑ 97 لاکھ 250 روپے کی غیر قانونی تنخواہیں دیگر ملازمین کو جاری کیں۔

رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ سی ٹی اسکین کا معاہدہ غیر قانونی طور پر لائبہ انٹرنیشنل پشاور کو دیا گیا، جس کے نتیجے میں حکومت کو 8 کروڑ 39 لاکھ 5 ہزار 420 روپے کی غیر ضروری سبسڈی دینا پڑی۔

اسی طرح میڈیکل گیس کی فراہمی کا معاہدہ بھی 6 کروڑ 60 لاکھ 7 ہزار 194 روپے میں غیر شفاف انداز میں دیا گیا جس کے نتیجے میں مریضوں کو بغیر حفاظتی آلات کے خشک گیس فراہم کی گئی، جو کہ ایک انتہائی خطرناک عمل قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں دیگر ںے ضابطگیوں کا ذکر کیا گیا ہے جس میں لیبارٹری اور ایکسرے کی آمدنی میں 1 کروڑ 55 لاکھ8 ہزار330 روپے کی خرد برد کی گئی۔

اس کے ساتھ او ٹی سی ادویات کی خریداری میں 68 لاکھ روپے کا غیر ضروری اجرا کیا گیا۔ہسپتال کے سولر سسٹم کے معاملے میں بھی 5 کروڑ روپے کا نقصان اٹھایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ سیاحوں کے قاتل ہیں، فوری ایف آئی آر درج کی جائے، اپوزیشن لیڈر

رپورٹ میں ان سنگین بے قاعدگیوں کے بعد متعلقہ افراد کے خلاف فوری کارروائی، چوری شدہ رقوم کی واپسی اور ہسپتال کے انتظامی نظام میں بنیادی اصلاحات کی سفارش کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی بدعنوانی کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

Scroll to Top