وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ جب ماضی پر نظر ڈالتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر کئی ایسی پالیسیوں کا حصہ بنا جن کی قیمت آج ملک چکا رہا ہے, 80 کی دہائی میں ملک میں آمریت تھی اور یہ حکومتیں ہمیشہ امریکی تائید اور تصدیق کی طلبگار رہیں۔
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہماری سابقہ خارجہ پالیسیوں میں کمزوری اور سمجھوتہ نمایاں تھا، ہم نے بعض مواقع پر ایسے فیصلے کیے جو ہماری خودمختاری کے منافی تھے لیکن گزشتہ ڈیڑھ سال میں ہم نے ان ذمہ داریوں سے خود کو آزاد کرنا شروع کر دیا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اب کسی بھی ملک کے لیے مسلح کرائے کے سپاہی کا کردار ادا نہیں کرے گا، ماضی میں ہم امریکا کے اشارے پر لڑتے رہے اور جن مذہبی گروہوں کو مجاہد کہا وہ بعد میں ملک کے لیے مسائل بنے۔
انہوں نے کہا کہ لاکھوں غیر رجسٹرڈ افراد سسٹم پر بوجھ بن چکے ہیں نہروں کے کناروں پر غیرقانونی قبضے ماحولیاتی بحران پیدا کر رہے ہیں، ڈمپر مافیا اور ریت سمگلنگ کے پیچھے منظم غیرقانونی نیٹ ورکس سرگرم ہیں۔ جب تک یہ عناصر واپس نہیں جاتے پاکستانی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں مل سکتے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسی واضح اور متوازن ہے اور قوم کی عزت و وقار کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، افغان پالیسی پر کلیئرنس کا عمل جاری ہے اور ہم اسے مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
خواجہ آصف نے سندھ طاس معاہدے پر بھارت کی پالیسی کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے حکومتی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا عالمی عدالت نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو غیرقانونی قرار دیا ہے اور سندھ طاس معاہدے کی تشریح پر بھارتی مؤقف مسترد کر دیا گیا ہے۔
وزیر دفاع نے بھارتی وزیراعطم کی سیاست پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی پالیسیوں نے بھارت کو دنیا بھر میں بے نقاب کر دیا ہے۔
سیاسی معاملات پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ شخصیت پرستی نے قوم کو ہزار سال پیچھے دھکیل دیا ہے، پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں کے معاملے میں اپنے ہی پیدا کردہ سیاسی ماحول کا سامنا ہے جبکہ باقی جماعتیں انتخابی عمل کو تسلیم کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری پر حملہ برداشت نہیں کریں گے، میاں افتخار حسین
انہوں نے مزید کہا کہ جو ججز ماضی میں پی ٹی آئی کی مدح سرائی کرتے تھے آج ان کے فیصلے سب کے سامنے ہیں، ہم نے بھی جیلیں کاٹی ہیں لیکن سیاست میں برداشت اور رواداری کی روایت ضروری ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مخلوط حکومت کے اندرونی اختلافات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ اختلافات آتے ہیں لیکن ہم انہیں حل کر کے آگے بڑھ رہے ہیں، قومی مفاد میں پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلقات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔





