پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں علی امین گنڈاپور کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی، اگر کسی کو شوق ہے تو تحریک لے آئے، ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کا بطور چیئرمین انتخاب پارٹی کے بانی عمران خان کی ذاتی چوائس ہے۔ ان کے بقول، ’’کچھ لوگ اس فیصلے کو تبدیل کروانے کی کوشش کے لیے عمران خان کے پاس گئے تھے لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔‘‘
سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق حالیہ فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ فیصلہ مایوس کن ہے، ہماری جیتی ہوئی نشستیں بانٹ دی گئیں، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ خیبرپختونخوا کے ارکان اسمبلی پارٹی چھوڑ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے ایم پی ایز کسی اور پارٹی میں نہیں جائیں گے، اور خیبرپختونخوا میں حکومت محفوظ ہاتھوں میں ہے۔‘‘
پارٹی کے اندرونی اختلافات پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے اعتراف کیا کہ صوبائی صدر جنید اکبر کے بعض بیانات نامناسب ہیں، تاہم یہ اختلافات پارٹی کے اندر تک محدود رہنے چاہییں۔ ’’جس طرح علی امین ہمارے لیے محترم ہیں، جنید اکبر کی حیثیت بھی ہمارے لیے اتنی ہی ہے‘‘
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ بجٹ مشروط طور پر منظور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’عمران خان کی رہائی کے لیے کارکنوں میں شدید دباؤ پایا جاتا ہے، اور ہم ہر فورم پر ان کی رہائی کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔‘‘





