خیبر پختونخوا ، 17 سال میں کتنے پولیس اہلکار دہشتگردانہ حملوں میں شہید ہوئے ، رپورٹ جاری

چھ ماہ میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے درجنوں کیسز رپورٹ

پشاور: خیبرپختونخوا میں رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران دہشت گردی، اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے سینکڑوں واقعات پیش آئے۔

صوبائی پولیس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2025 سے یکم جولائی 2025 تک دہشت گردی سے متعلق 756 مقدمات مختلف تھانوں میں درج کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں بھتہ خوری کے 94، ٹارگٹ کلنگ کے 41، جبکہ اغوا کاری کے 38 واقعات پولیس کے ریکارڈ کا حصہ بنے۔ مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 80 دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) دھماکے اور 5 خودکش حملے رپورٹ ہوئے۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں 12 میزائل حملے، 35 دستی بم حملے، اور پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کے 269 واقعات پیش آئے۔

یہ بھی پڑھیں  پی ٹی آئی کارکنوں کے تحفظات پر پولیس افسر خان زیب مہمند کی بطور ڈی پی او صوابی تعیناتی معطل

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ تعاون پر 44 افراد کے خلاف جبکہ دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے پر 13 مقدمات درج کیے گئے۔

پولیس رپورٹ میں موجود اعداد و شمار صوبے میں امن و امان کی نازک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں، جس پر سیکیورٹی اداروں کی توجہ درکار ہے۔

Scroll to Top