صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں 5 سے 11 جولائی تک موسلا دھار بارشوں کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اس دوران شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق صوبے کے بالائی اضلاع جن میں ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، چترال اپر و لوئر، دیر اپر و لوئر، سوات، بونیر، ملاکنڈ، بٹگرام، شانگلہ، کوہستان اپر و لوئر، کولائی پالس کوہستان، اور تورغر شامل ہیں، وہاں شدید بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔
اسی طرح پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ اور چارسدہ میں نشیبی علاقوں کے زیرِ آب آنے یعنی اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، کوہاٹ، ہنگو جیسے اضلاع میں ندی نالوں میں طغیانی آنے کا امکان ہے، جو مقامی آبادی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
مزید یہ کہ بنوں، کرک، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں بھی شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بالائی علاقوں میں دریائے چترال، دریائے سوات، دریائے پنجکوڑہ اور دریائے کابل میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث قریبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
ایبٹ آباد، بٹگرام، بونیر، دیر، چترال، شانگلہ، کوہستان، ملاکنڈ اور مانسہرہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات کے پیش نظر عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہنگامی اقدامات فوری طور پر مکمل کریں، مقامی آبادی کو الرٹ کریں، ریسکیو اہلکاروں کو الرٹ رکھا جائے اور ہنگامی سامان پہلے سے مہیا رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : دو روز بعد سونے کی قیمت میں کمی
عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر سیاح خطرناک علاقوں میں جانے سے پرہیز کریں۔ پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہری 1700 ہیلپ لائن پر اطلاع دے سکتے ہیں۔





