میرانشاہ: اتمانزئی جرگہ کا آج شمالی وزیرستان کے سب ڈویژن میرعلی میں مشورتی جرگہ منعقد ہوا جس میں تمام علاقوں مشران اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کل ایک جون اور آج2 جون کو سیدگئی چیک پوسٹ پر تمام گاڑیوں کو شمالی وزیرستان کی جانب اجازت دی گئی جو اتمانزئی جرگہ کا مطالبہ تھا اور نان کسٹم پیڈ یعنی این سی پی گاڑیوں کی بھی اجازت دی گئی۔
اتمانزئی جرگہ کےترجمان مفتی بیت اللہ نے پختون ڈیجیٹل کو کہا کہ شمالی وزیرستان میں نقل مکانی باتیں بے بنیاد ہیں جس میں کوئی صداقت نہیں ہے اور نہ ہی عسکری اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہم سے اس حوالے سے بات ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اتمانزئی جرگہ اور ضلعی انتظامیہ کے مابین آج مذاکرات ہوئے ہیں ج،کل ایک بجے مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ شروع ہو گا ہمیں امید ہے مذاکرات کے نتائج عوام کے مفاد میں ہونگے۔
ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے مسائل کا حل ہی مذاکرات میں ہیں، اتمانزئی جرگہ کی جانب سے جو مطالبات پیش کئے گئے تھے وہی ہم نے تسلیم کئے ،اتمانزئی جرگہ کے ساتھ آج مذاکرات کی نشست میں بہت پیش رفت ہوئی، کل دوبارہ مذاکرات ہونگے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان محمد یوسف کریم سربراہی میں مذاکرات میں شریک ہوئے، جس کے بعد جی او سی سیون ڈویژن کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے۔
اتمانزئی جرگہ کی قیادت چیف آف وزیرستان ملک نصراللہ کر رہے تھے۔ جن کے ہمراہ مفتی بیت اللہ، ملک حاجی عبدالقادر کابل خیل، مولانا مصباح اللہ، مولانا رمان، عبدالحلیل وزیر، ملک نعمت اللہ ہرمز ،مولانا راشید اللہ ،نور مدد خان ،مفتی شاکر ،مولا احمد دین، اور ملک ربنواز خان تھے۔





