مانسہرہ میں موٹر سائیکل سوار طالب علم پر مبینہ تشدد، دو پولیس اہلکار معطل

ضلع مانسہرہ میں موٹر سائیکل سوار طالبعلم پر مبینہ تشدد، غیرقانونی حراست اور ہراسانی کے واقعے پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شفیع اللہ گنڈاپور نے فوری نوٹس لیتے ہوئے واقعے میں ملوث دو اہلکاروں کو معطل کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک شکایت کے مطابق کِیو آر ایف (QRF) ٹیم کے اہلکاروں نے ایک طالبعلم (بائیکا رائیڈر)کو غیرقانونی طور پر حراست میں لے کر مبینہ تشدد اور ہراسانی کا نشانہ بنایا۔

ڈی پی او مانسہرہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس پی سٹی ریشم جہانگیر کی سربراہی میں پوری QRF ٹیم کو طلب کیا اور واقعے میں ملوث دونوں اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔

ڈی پی او کی ہدایت پر اعلیٰ سطح کی انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کی نگرانی ایس پی سٹی ریشم جہانگیر کر رہی ہیں۔انکوائری میں تمام شواہد، CCTV فوٹیج اور متاثرہ شہری کا تفصیلی بیان شامل کیا جائے گا۔

ڈی پی او شفیع اللہ گنڈاپور نے کہا ہے کہ مانسہرہ پولیس عوامی اعتماد اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، کسی بھی شہری کے ساتھ غیرقانونی رویہ، تشدد یا بدسلوکی ناقابلِ قبول ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ثمر بلور کا فیصلہ حیران کن نہیں، غلام احمد بلور آج بھی پارٹی کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں، ایمل ولی خان

انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Scroll to Top