چین نے سیاحت کو فروغ دینے کیلیے 70 سے زائد ممالک کے شہریوں کیلیے ویزا فری انٹری کا اعلان کر دیا۔
چین میں ویزا پالیسی میں نرمی کے بعد دنیا بھر سے سیاح ملک میں سیاحتی مقامات کا رُخ کر رہے ہیں۔
نئی پالیسی کے مطابق 74 ممالک کے شہری بغیر ویزا چین میں 30 دن تک قیام کر سکتے ہیں۔
ملک کی نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2024 میں 20 ملین سے زائد غیر ملکی سیاح بغیر ویزا داخل ہوئے۔
اگرچہ زیادہ تر سیاحتی مقامات اب بھی غیر ملکیوں سیاحوں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن ٹریول کمپنیاں اور ٹور گائیڈ اب موسم گرما کی تعطیلات کیلیے چین آنے والوں کی توقع میں بڑی آمد کیلیے تیار ہیں۔
کورونا وبا میں سخت پابندیوں کو ختم کرنے کے بعد سے چین نے 2023 کے اوائل میں سیاحوں کیلیے اپنی سرحدیں دوبارہ کھول دیں لیکن اس سال صرف 13.8 ملین لوگوں نے دورہ کیا جو کہ سال 2019 میں 31.9 ملین کے نصف سے بھی کم تھا۔
واضح رہے کہ دسمبر 2023 میں چین نے فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، اسپین اور ملائیشیا کے شہریوں کیلیے ویزا فری داخلے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے بعد سے تقریباً پورا یورپ نئی ویزا پالیسی میں شامل ہو چکا ہے۔
پانچ لاطینی امریکی ممالک اور ازبکستان کے مسافر پچھلے مہینے اس پالیسی میں شامل کیے گئے، آذربائیجان کے شامل ہونے سے 16 جولائی 2025 کو مجموعی تعداد 75 ہو جائے گی۔
چین کی نئی پالیسی کے مطابق جن ممالک کو ویزہ فری انٹری دینے کا اعلان کیا گیا ان میں جنوبی کوریا،جاپان،امریکہ،کینیڈا، برطانیہ فرانس،جرمنی،اٹلی ،آسٹریلیا،روس،نیدرلینڈز،سوئٹزرلینڈ،آسٹریا،سوئیڈن،ناروے،فن لینڈ، بیلجیئم،سپین،پرتگال، نیوزی لینڈ، ملائیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ، پاکستان، بھارت، نیپال، سری لنکا، میکسیکو، ارجنٹائن، برازیل، چلی، کولمبیا، پیروا، ہانگ کانگ، میکاو، امریکا کی ریاست ہوائی، مراکش، مصر، جنوبی افریقہ، کینیا، کینیڈا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت، عمان، اردن، لبنان، شام، یونان، ترکی، الجزائر، تیونس، پولینڈ، ہنگری، سلوواکیہ، چیک ری پبلک، سلووینیا، لیتوانیا، ایسٹونیا، لیٹوریا، بلغاریہ، رومانیہ، کرغیزستان، ازبکستان، قازقستان، تاجکستان، قبرص، مالدیپ، فجی، ساموا، پیسیفک جزائراورٹوگو شامل ہیں۔





