مردان:صوبائی حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی ناکام، 90 اسکول خستہ حالی کا شکار، 1000 سے زائد بنیادی سہولیات سے محروم

مردان (اخونزادہ فضل حق )خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔

ضلع مردان کے 90 اسکولز خستہ حالی کے شکار ہیں ان خستہ حال تعلیمی اداروں کو دوبارہ تعمیر وقت کی ضرورت ہے جبکہ ضلع مردان کے ایک ہزار سے زائد تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

مردان کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل محمد زاہد نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ضلع مردان میں 90 سکولز ایسے ہیں جنہیں دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے ہم نے باقاعدہ اس کی تعمیر کیلئے متعلقہ حکام کو لیٹرز ارسال کئے ہیں ۔

ڈی ای او مردان نے کہا کہ ضلع مردان میں 823 پرائمری سکولز ، 83 مڈل سکولز ، 85 ہائی سکولز اور 47 ہائیر سیکنڈری سکولز ہیں جن میں کسی میں واش رومز ، بجلی باؤنڈری والز اور دیگر بنیادی ضروریات کی کمی ہے جبکہ 95 فیصد سکولوں میں سولرائیزیشن نہیں ہے ،ان ضروریات کے حوالے سے باقاعدہ طور پر صوبائی تعلیمی محکمہ کو مطالبات کے لیٹرز ارسال کئے ہیں اور امید ہے کہ متعلقہ حکام جلد اس پر مثبت رپورٹ مرتب کرے گی ۔

گزشتہ کئی سالوں سے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے جس ایک طرف بچے تعلیم کے زیور سے محروم ہونے کا خدشہ ہے تو دوسری جانب تدریسی عملے کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں : سینیٹ انتخابات کے بعد ہی تحریک عدم اعتماد کے بارے میں سوچیں گے،فیصل کریم کنڈی

کئی سالوں سے ضلع مردان کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فقدان پر منتخب نمائندے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار رکھی ہوئی ہے ۔

Scroll to Top