پشاور( شاہد جان)تحریک انصاف حکومت میں ایک اور بڑا سکینڈل سامنے آگیا ہے، سیٹیز امپرومنٹ پراجیکٹ میں 32ارب روپے کے بے ضابطگیوں کا انکشاف ہواہے ،ارکین اسمبلی نے پبلک اکاونٹ کمیٹی سے بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور ملوث افراد کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختوںخوا کے پانچ شہروں پشاور، کوہاٹ، مردان، ایبٹ آباد اور مینگورہ شہروں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے اور ان شہروں کو بہترین بنانے کیلئے ٹھیکہ غیر رجسٹرڈ ترک کمپنی کو کے پی سی آئی پی کے تحت دیاگیاہے،یہ کمپنی بولی کے وقت نہ پاکستان انجینئرنگ کونسل، نہ ایف بی آر اور نہ کے پی ریونیو اتھارٹی میں رجسٹرڈ تھی۔
ذرائع کے مطابق جھوٹی رپورٹوں پر عملے اور مشیروں کی ملی بھگت سے 32 ارب روپے کی ادائیگی کی گئیں۔کمپنی پر ٹیکس چوری کا بھی الزام ہے۔کمپنی کا آمدنی ٹیکس، سیلزٹیکس یا ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنے کا کوئی ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے۔غیر رجسٹرڈ کمپنی کو جھوٹی رپورٹوں پر ادائیگی کرکے ،اور کمپنی کی جانب سے ٹیکس ادا نہ کرنے پر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایاگیاہے۔
ان بے ضابطگیوں پر صوبائی اسمبلی کے ارکین ،ایم پی اے سجاداللہ ،محمد ریاض ، آزاد رکن تاج محمد ، منیر حسین لغمانی اور پی ٹی آئی کے محمد عارف نے چیئرمین پبلک اکاونٹ کمیٹی کو خط لکھ دیاہے جس میں کمپنی کو ٹھیکہ دینے اور جھوٹی رپورٹوں پر ادائیگی کی تحقیقات کا مطالبہ کیاگیاہے۔
اراکین اسمبلی نے خط میں کہا ہے کہ غیر رجسٹرڈ کمپنی کو بولی میں شامل کرکے بڑے معاہدے کے حصول اور غیر قانونی طور پر کمپنی کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ اراکین اسمبلی نے پی سی آئی پی، مقامی حکومت کے محکمے اور منصوبے کے مشیروں کے متعلقہ حکام کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

۔

خط میں معاملہ نیب، ایف بی آر اور دیگر اداروں کو بھیجنے اورمبینہ جعلی یا نامکمل دستاویزات کی بنیاد پر ادائیگیاں منظور کرنے والے تمام ذمہ دار افسران کیخلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیاگیاہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نےبے ضابطگیوں کا نوٹس لیکر جمعرات کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
اجلاس میں ڈپٹی آڈیٹر جنرل (نارتھ)، صوبائی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات، صوبائی سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی ک طلب کرتے ہوئے الزامات پر جوابات تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس سے قبل آڈٹ کے دوران بھی اس منصوبے میں 8 اعشاریہ4853 بلین روپے کے بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا تھا۔ آڈٹ رپورٹ میں منصوبے میں فنڈز کا غلط استعمال، غیر مجاز کام، غیر منظور شدہ ڈیزائن میں تبدیلی اور جان بوجھ کر لاگت میں اضافے کی نشاندہی کی گئی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیاہے کہ 8.800 ملین روپے کی ادائیگی سائٹ پر کام نہ کرنے پر غلط استعمال کی گئی جبکہ پارکنگ ایریا میں فائبر گلاس کی تنصیب کے لیے 11.219 ملین روپے کا جھوٹا دعویٰ اورجعلی پیمائش کی وجہ سے 34.890 ملین روپے کا نقصان شامل ہے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے 97 ارب روپے کے سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ 2022 کے آخر میں شروع کیا گیا تھا اور 2026 کے آخر تک مکمل ہونے کا وقت دیاگیاہے۔
یہ بھی پڑھیں : کرپشن کے الزامات: پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی اور معاون خصوصی امجد علی کو نیب نے طلب کرلیا





