اسلام آباد (مہوش قماس)وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و نشریات و خیبر پختونخوا، اختیار ولی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں ایک سرکاری اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر 200 ارب روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایک بہت بڑی داستان کو بے نقاب کرنے آیا ہوں۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ یہ کوئی معمولی مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ عجب کرپشن کی غضب کہانی ہے، جسے تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں “صاف چلی، شفاف چلی” کے نعرے تلے چھپایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اسکینڈل پر نیب نے کارروائیاں کی ہیں اور کئی اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ نیب نے کارروائی کرتے ہوئے 5 ارب روپے کی نقدی برآمد کی ہے، جس میں ڈالر، پاؤنڈ، کویتی دینار اور پاکستانی روپے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لگژری گاڑیاں، سونا، 30 گھر، 25 فلیٹس، 12 دکانیں، 4 فارم ہاؤسز اور 175 کنال اراضی بھی سامنے آئی ہے، جنہیں منجمد کر دیا گیا ہے۔
اختیار ولی نے بتایا کہ اس کیس میں ٹھیکیدار محمد ایوب کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس اسکینڈل میں صرف سرکاری اہلکار نہیں بلکہ ٹھیکیدار اور دیگر غیر سرکاری عناصر بھی شامل ہیں۔
ان کے مطابق یہ کہانی 2019 میں اُس وقت شروع ہوئی جب عمران خان وزیراعظم تھے اور تاحال جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ٹھیکیدار تو صرف فرنٹ پر آیا ہے، ابھی بہت سے نام سامنے آئیں گے، نیب کے پاس ابھی بہت کام باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صرف ایک ضلع میں 200 ارب روپے کی کرپشن ہو سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کے باقی اضلاع کی صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ کپتان اور اس کی ٹیم کا کام سب نے دیکھ لیا ہے، محمود خان سے علی امین گنڈا پور تک سب کو ہم جان چکے ہیں۔
انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج 13 سال بعد بھی کے پی حکومت کے پاس مستقل وزیر خزانہ موجود نہیں، اسی لیے سندھ سے ایک شخص کو خیبر پختونخوا کا وزیر خزانہ ایمپورٹ کیا گیا ہے۔
انہوں نے ایک اور بڑے منصوبے پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے سولرائزیشن کا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کے تحت 32 ہزار گھروں کو مفت سولر فراہم کیا جانا ہے۔ منصوبے کی مالیت 5 ارب 86 کروڑ روپے ہے، جس میں سے 125 کروڑ روپے رشوت دیے جانے کے شواہد موجود ہیں۔
نیب کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ نیب خیبر پختونخوا کو آدھی شاباش ہے، لیکن ریکوری کی شرح بہت کم ہے۔ 200 ارب روپے کی کرپشن میں سے 20 سے 25 ارب کی برآمدگی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس کیس کو ادھورا نہیں چھوڑیں گے، اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔
اختیار ولی خان نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی کرپشن صرف ان کے دفاتر یا محکموں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ان کے گھروں، ڈرائیوروں اور ٹھیکیداروں تک پھیلی ہوئی ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کے عوام سے اپیل کی کہ اب ووٹ کی پرچی سے چوروں اور ڈاکوؤں کے سرداروں کو مسترد کریں۔
اختیار ولی نے اس کیس کو “ٹیسٹ کیس” قرار دیتے ہوئے وزیراعظم سے اپیل کی کہ نیب خیبر پختونخوا کے افسران کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی انکوائریاں آزادانہ اور بے خوف انداز میں مکمل کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : جعلی تعلیمی اسناد پر کارروائی،ڈپٹی کمشنر صوابی نے دو اہلکار برطرف کر دیے
انہوں نے کہا کہ قوم کے مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا، ہم کرپشن کو انجام تک پہنچائیں گے۔





