پی ٹی آئی کے سینیٹ کے لئے کورنگ امیدواروں اور قیادت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی ناکام

پاک تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کےناراض سینیٹ انتخابات کیلئے کورنگ امیدواروں کا وزیراعلی علی امین گنڈاپور کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور بھی ناکام ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق اب فیصلہ تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کرے گی تاہم امیدواروں کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلے پر وہ اپنا موقف دینگے۔

اسے قبل آج پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کےسینیٹ انتخابات کے لیے کورنگ امیدواران عرفان سلیم، عائشہ بانو، ارشاد حسین، وقاص اورکزئی اور پارٹی قیادت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوا تھا۔

‏تحریک انصاف کے ناراض امیدواروں نے دو نشستوں کا مطالبہ کیا تھا جبکہ وزیراعلی اعلی امین گنڈاپورنے غیر مشروط دستبردار ہونے کی ہدایت کردی تھی۔

ناراض گروپ کا مطالبہ ہے کہ جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کو دئےگئے دو دو نشستوں میں سے ایک ایک واپس لیا جائےیا الیکشن لڑا جائے ۔

پہلے دور کے مذاکرات میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا، تیمور جھگڑا اور شوکت بسرا شریک تھے۔

یاد رہے کہ جمعرات کے روز پی ٹی آئی کے کورنگ امیدواروں کا اجلاس منعقد ہواتھا جس میں جنرل نشست کے امیدوار عرفان سلیم، وقاص اورکزئی،خرم ذیشان ، ٹیکنوکریٹ کی نشست کے امیدوار سابق آئی جی سید ارشاد حسین اور خواتین کی نشست کی امیدوار عائشہ بانو شریک ہوئیں۔

اجلاس کے دوران امیدواروں نے واضح کیا ہے کہ وہ سینیٹ کی دوڑ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بلامقابلہ سینیٹ انتخاب پر اتفاق ہو گیا ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں 5/6 فارمولے پر اتفاق پایا گیا ہے، فارمولے کے تحت تحریک انصاف کو 6 اور اپوزیشن کو 5 نشستیں ملیں گی۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات: 11 نشستوں کیلئے 8 پولنگ افسر تعینات

معاہدے کے تحت اپوزیشن کی جانب سے طلحہ محمود، عطا الحق درویش، روبینہ خالد، دلاور خان اور نیاز احمد بلا مقابلہ سینیٹرز منتخب ہوں گے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا محمد آفریدی، نورالحق قادری، اعظم سواتی اور روبینہ ناز بلا مقابلہ سینیٹر ہوں گے۔

Scroll to Top