پشاور: معروف ماہر قانون اور ایڈوکیٹ پلوشہ رانی نے کہا ہے کہ ہراسانی کا مسئلہ صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ دفتر یا کسی بھی جگہ ہراسانی کا سامنا کرنے والا ہر فرد قانون کے تحت تحفظ حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2010ء کا قانون اور آن لائن ہراسانی کے لیے پیکا ایکٹ شہریوں کو قانونی امداد فراہم کرتے ہیں۔
پلوشہ رانی نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو گھورنا یا سوشل میڈیا پر غیر ضروری رابطے بھی ہراسانی کی تعریف میں آتے ہیں، اور ایسے رویوں پر خاموشی اختیار کرنا درست نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اس قسم کی ہراسانی کے خلاف آگاہی اور قانونی کارروائی وقت کی ضرورت ہے، لہٰذا متاثرہ افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز بلند کریں اور حقوق کے تحفظ کے لیے قدم اٹھائیں۔
یہ بھی پڑھیں : نوشہرہ: جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، 2 بھائی جاں بحق، تیسرا شدید زخمی
ماہر قانون نے واضح کیا کہ اگر ہراسانی کا کوئی ثبوت موجود ہو تو متاثرہ افراد 345A اور 24A کے تحت آن لائن یا آف لائن ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں۔
ہراسانی کے جرم پر 5 سال تک قید اور 1 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔





