خیبرپختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی حلف برداری نہ ہونے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر ہونے کے بعد چیف جسٹس کے حکم پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مخصوص نشستوں پر ارکان کی حلف برداری کے لیے اجلاس طلب کر لیا ہے۔
گورنر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا:
’’کوشش ہے کہ آج یا کل تک تمام ارکان حلف لے لیں تاکہ سینیٹ انتخابات میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔انہوں نے مزید کہا’’حلف نہ لینا جمہوری روایات کی واضح خلاف ورزی ہے۔ حکومت ایسے اقدامات کرے جو ہارس ٹریڈنگ جیسے غیر جمہوری عمل کی روک تھام کریں۔‘‘
گورنر نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ
“2008 میں بھی ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے بلا مقابلہ انتخابات کرائے گئے تھے، اور آج بھی اسی دانشمندی کی ضرورت ہے۔’’ایک سوال پر انہوں نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا’’جب ان کے اپنے امیدوار عدالت کے فیصلے کو نہیں مان رہے، تو عام ایم پی ایز سے اطاعت کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟‘‘
سیاسی کشیدگی اور اجلاس کی تفصیلات
خیبرپختونخوا اسمبلی میں آج صبح 9 بجے اجلاس طلب کیا گیا تھا، لیکن تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز کے بعد کورم کی نشاندہی فوری طور پر سامنے آ گئی، جس کے باعث حلف برداری کا عمل ایک بار پھر ناکام رہا۔
ذرائع کے مطابق’’پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے اور کورم کی نشاندہی کے ذریعے حلف برداری سے بچنے کی حکمت عملی اپنائی۔‘‘
اس کے بعد اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور اسپیکر کے ڈائس کے سامنے جمع ہو کر حلف کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
اس صورتحال کے باعث اجلاس کو 24 جولائی بروز جمعہ، دوپہر 2 بجے تک مؤخر کر دیا گیا ہے، جس سے سینیٹ انتخابات کی راہ میں مزید غیر یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اس بحران کو آئینی اور انتخابی عمل کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔





