مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جس کو تنگ کرنا ہو اس کی فائل کھولی جاتی ہے، قوم ٹیکس کیوں دے جب سب کچھ آئی ایم ایف کو جانا ہے؟
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میں قانون سازی کا مقصد عوام کی فلاح نہیں بلکہ بعض اوقات مخصوص افراد کو نشانہ بنانا ہوتا ہے، ’’جسے تنگ کرنا ہو اس کی فائل کھولی جاتی ہے‘‘۔
قومی اخبار (روزنامہ جنگ ویب سائٹ )کے مطابق آزاد کشمیر کے تربیتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ عوام اس لیے ٹیکس دینے سے گریزاں ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ سارا پیسہ آئی ایم ایف کی قسطوں میں چلا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں جنگیں صرف زمینوں کی نہیں بلکہ معیشت اور وسائل پر لڑی جا رہی ہیں۔ اسمبلی میں قانون سازی بھی اس بنیاد پر ہو رہی ہے کہ یہ آئی ایم ایف یا ایف اے ٹی ایف کی ڈیمانڈ ہے۔
فضل الرحمٰن نے کہا کہ امت مسلمہ اور پاکستان دونوں شدید مشکلات کا شکار ہیں اور ان مشکلات سے نکلنے کا واحد راستہ دین اسلام اور اس کی تعلیمات پر عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست کو صرف اقتدار کا راستہ نہیں بلکہ تدبر، حکمت اور اسلامی اصولوں کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ آج کل قانون سازی کا مقصد اصلاحات کے بجائے افراد کو دباؤ میں لانا بن چکا ہے، جو قابل تشویش ہے۔





