پشاور ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کی جانب سے دائر درخواست پر ایس ایچ او بڈھ بیر کو 23 جولائی کو طلب کر لیا۔
قومی اخبار (روزنامہ جنگ ویب سائٹ)کےمطابق جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ الزامات کی بنیاد پر کارروائی ممکن نہیں، اگر کوئی ایف آئی آر ہے تو عدالت اس پر غور کرے گی۔
شاندانہ گلزار نے عدالت کو بتایا کہ ان کے حلقے میں لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں اور امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حلقے میں عوامی نمائندوں نے کبھی دیرینہ مسائل کے حل کے لیے کوئی جرگہ کیا؟
جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ حلقے میں آئس، ہوائی فائرنگ اور اسلحہ کے استعمال پر پابندی کے باوجود قانون کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، اور عوامی نمائندوں کی جانب سے کوئی بڑا تعلیمی یا ترقیاتی منصوبہ نظر نہیں آتا۔
شاندانہ گلزار نے جواب میں کہا کہ وہ حلقے میں رہتی ہیں اور بڈھ بیر گرلز کالج اور زچہ و بچہ اسپتال منظور کروایا ہے۔ عدالت نے سماعت 23 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے سی سی پی او اور ایس ایچ او بڈھ بیر کو طلب کر لیا۔





