(شہزاد نوید)سوات فضاگٹ بائی پاس اور فضاگٹ کے ساتھ ملحقہ دریائے سوات کے کنارے تجاوزات کے خاتمے کے سلسلے میں جاری آپریشن کے حوالے سے عوامی تحفظات پر تبادلہ خیال کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ نمائندہ کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان سے اُن کے دفتر میں ملاقات کی۔
اس اہم اجلاس میں مئیر سٹی کونسل شاہد علی، صدر ٹریڈ فیڈریشن ملاکنڈ ڈویژن عبدالرحیم، صدر ہوٹلز ایسوسی ایشن سوات حاجی زاہد خان، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ڈاکٹر خالد محمود، ترجمان سوات ٹریڈ فیڈریشن سمیت دیگر معزز عمائدین شریک ہوئے۔
اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) سوات حامد بونیرے، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس/ریلیف و ہیومن رائٹس) سوات سید نعمان علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی ارحم مختار، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرا اخلاق احمد، ایکسئین ایریگیشن انعام خان اور دیگر متعلقہ افسران اور میڈیا نمائندگان بھی موجود تھے۔
وفد نے تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن سے متعلق اپنے خدشات سے ڈپٹی کمشنر سوات کو تفصیلاً آگاہ کیا۔ اُنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آپریشن سے قبل ریونیو ریکارڈ کی روشنی میں دریائے سوات اور اردگرد کی ذاتی ملکیتی اراضیات کی باقاعدہ حد بندی کی جائے تاکہ قانونی اور غیرقانونی تعمیرات میں واضح فرق سامنے آ سکے۔
ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان نے وفد کو یقین دلایا کہ موجودہ آپریشن پشاور ہائی کورٹ کے ا حکامات اور صوبائی حکومت خیبرپختونخوا کی واضح ہدایات کی روشنی میں جاری ہے اور یہ ضلع بھر میں بلا امتیاز جاری رہے گا۔
اُنہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ کا کسی فرد یا گروہ سے ذاتی اختلاف نہیں، بلکہ تمام کارروائیاں خالصتاً ریونیو ریکارڈ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔ جس اراضی پر تجاوزات ثابت نہیں ہوتیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی ہے اور نہ ہی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی گروپ بندی سے حکومت مشکلات کا شکار ہے، اکرم خان درانی
ڈپٹی کمشنر سوات نے وفد کی درخواست پر ایک سب کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی جو دو دن کے اندر ریونیو ریکارڈ کی بنیاد پر تجاوزات سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔ رپورٹ کی روشنی میں آپریشن کا آئندہ مرحلہ شروع کیا جائے گا۔





