اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے چینی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شوگر ملز کے خلاف کریک ڈاؤن کی وارننگ دے دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعدد شوگر ملز حکومت کے مقرر کردہ سرکاری ریٹ پر عمل نہیں کر رہیں، جو قابل قبول نہیں۔
یہ بات انہوں نے منگل کے روز پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں چینی کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایکس مل ریٹ 165 روپے فی کلوگرام پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزارت قومی غذائی تحفظ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر چینی کے نرخوں پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں۔
انہوں نے ایف بی آر اور فوڈ اتھارٹیز کو کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی فراہمی میں شفافیت اور منصفانہ تقسیم حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی نے 9 مئی کیسز کی تمام سزاؤں کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ اگر پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی تو حکومت خود حرکت میں آئے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غیرقانونی منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث ملوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔





