صوبائی حکومت کی مشکلات بڑھ گئیں،اے این پی نے حکومت کیخلاف فیصلہ کن تحریک کا اعلان کر دیا

راشد حسین شہید کی برسی قومی امن جرگے کے بعد منائی جائے گی، میاں افتخار حسین

عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی نے اپنی تاریخ کے ہر موڑ پر دہشت گردی کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنے جاری بیان میں میاں افتخارحسین کا کہنا تھاکہ ہم نے امن کی راہ میں اپنے بزرگوں، نوجوانوں، کارکنوں اور قائدین کے جنازے اٹھائے، مگر کبھی اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے۔

انہوں نے کہا کہ ہارون بلور، بشیر بلور، مولانا خانزیب شہید سے لے کر ہمارے 1200 سے زائد شہداء نے اپنے خون سے یہ گواہی دی ہے کہ یہ قوم امن چاہتی ہے اور اپنے وسائل پر حق مانگتی ہے۔

صدر اے این پی خیبرپختونخوا کا کہنا تھاکہ انہی شہداء میں میرا بیٹا، میرا لختِ جگر، راشد حسین بھی شامل ہے۔ ایک باشعور، تعلیم یافتہ نوجوان، جو یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے فوراً بعد پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا چیئرمین مقرر ہوا تھا، اُسے صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ اُس شخص کا بیٹا تھا جو دہشت گردوں کے خلاف میدان میں ڈٹا ہوا تھا، راشد کو صرف میرا بیٹا ہونے کی سزا دی گئی، مگر اس کے لہو نے ہماری جدوجہد کو مزید مضبوط کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فخرِ افغان باچا خان کے فلسفے پر یقین رکھنے والا میں، آج بھی اُسی حوصلے، اُسی استقلال، اور اُسی عزم کے ساتھ میدان میں ہوں، ہم نے کبھی جھکنا نہیں سیکھا،آج پندرہ برس بعد بھی جب میں راشد کی تصویر دیکھتا ہوں تو مجھے صرف بیٹے کی یاد نہیں آتی، بلکہ ایک عہد، ایک نظریہ، اور ایک قربانی یاد آتی ہے، جو ہم نے امن کے لیے دی تھی۔

میاں افتخار حسین نے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ آج بھی دہشت گردی کے سائے ہمارے وطن پر منڈلا رہے ہیں، لیکن ہمارا مؤقف واضح ہےہم امن کے داعی تھے، ہیں اور رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : الیکشن کمیشن کی جانب سےگیارہ منتخب سینیٹرز کا نوٹیفیکیشن جاری

انہوں نے کہا کہ راشد حسین شہید کی پندرہویں برسی ہم 26 جولائی کو ہونے والے قومی امن جرگے کے بعد باقاعدہ طور پر منائیں گے، ہم اس وقت جرگے کی تیاریوں میں مصروف ہیںکیونکہ یہ جرگہ بھی اُسی مشن کا حصہ ہے جس کے لیے راشد نے اپنی جان دی۔

Scroll to Top