پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے 5 اگست کو متوقع تحریک انصاف کے احتجاج کو ’’ناکام منصوبہ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہو چکا ہے، اور پی ٹی آئی کی اپنی قیادت بھی اس احتجاج کی حامی نہیں ہے۔
اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے طنز کرتے ہوئے کہا’’پھپھو (علیمہ خان) کی خواہش پوری نہ ہو سکی، بھتیجے (قاسم و سلیمان) پاکستان نہیں آ رہے، سابق بھاوج (جمائما) نے اپنے بچوں کو احتجاج سے دور رکھا ہے۔ جب مہاتما کے اپنے بچے ہی احتجاج میں شامل نہ ہوں تو انقلاب کیسے آنا تھا؟
انہوں نے کہا کہ علیمہ باجی خود اس نام نہاد احتجاج کی ناکامی کی پیشگی اطلاع دے چکی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر بھی اتفاق رائے نہیں پایا جا رہا۔
مالی بے ضابطگیوں پر شدید تنقید
عظمیٰ بخاری نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی اداروں میں 354 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کو ’’چارج شیٹ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا’’جو فنڈز عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے تھے، ان کی بندربانٹ کی گئی، اور وہی لوگ جو چور چور کا نعرہ لگاتے تھے، خود گزشتہ 12 سال سے کرپشن کے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔‘‘
9 مئی پر واضح موقف
صوبائی وزیر نے کہا کہ جو لوگ نااہل ہو رہے ہیں، وہ ناکام بغاوت کے مرتکب ہوئے۔’’9 مئی جیسے شرمناک واقعات پر ندامت کے بجائے ان کا دفاع کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ جو لوگ شہداء کے مجسمے جلاتے ہیں، وہ قوم کے لیے قابل نفرت بن چکے ہیں۔‘‘
عظمیٰ بخاری کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب تحریک انصاف کی جانب سے 5 اگست کو احتجاج کی کال دی گئی ہے، تاہم پارٹی کے اندرونی اختلافات اور بیرونِ ملک قیادت کی عدم شرکت کے باعث احتجاج کی کامیابی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔





