پشاور (کامران علی شاہ )پشاور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-1 چترال سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی عبد الطیف چترال کی نااہلی کے خلاف درخواست پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کو 29 جولائی کو جاری کیے گئے نااہلی کے نوٹیفکیشن پر مزید کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کردہ تحریری فیصلے میںالیکشن کمیشن، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں۔
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ عبد الطیف چترالی کی اپیل اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے، اس تناظر میں درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دیا حالانکہ سزا ابھی حتمی نہیں ہوئی اور اپیل کا فیصلہ آنا باقی ہے۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے یہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 63(1)(h) کے تحت عبد الطیف چترال کو نااہل قرار دیا۔
تاہم عدالت کے مطابق الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ قبل از وقت اور قانون کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ الیکشن کمیشن 29 جولائی کے نوٹیفکیشن کی بنیاد پر کوئی مزید کارروائی نہ کرے اور تمام فریقین کو نوٹسز بھیج دیے گئے ہیں تاکہ آئندہ سماعت میں تفصیل سے مؤقف سنا جا سکے۔





